دوقومی نظریہ ٹھکرا کر 1947 میں بھارت کے ساتھ الحاق ایک غلط فیصلہ تھا: سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی

ویب ڈیسک ۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے 1947 میں پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے فیصلے کو اپنے بڑوں کی غلطی قرار دے دیا۔ کہتی ہیں دوقومی نظریے کو ٹھکرانے کا فیصلہ آج الٹا ہمارے گلے پڑ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کرنے کے بعد کشمیری رہنماوٴں کا نے شدید رد عمل کا اظہار یا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سے ٹویٹر پر بھارت سرکار کے فیصلے کے خلاف کہا ہے کہ آج بھارتی جمہوریت میں ایک سیاہ ترین دن ہے۔ 1947میں دو قومی نظریہ ٹھکرا کے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ الٹا ہمارے گلے پڑ گیا ہے۔ آرٹیکل 370کا خاتمہ بھارتی قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔

 

یاد رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے بھارتی حصہ قرار دے دیا۔ بھارتی صدر نے مودی سرکار کے حکم نامے پر دستخظ کرتے دیئے۔ آرٹیکل  35 اے ختم کرتے ہوئے مقبوضہ وادی دو حصوں میں تقسیم کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی صدر نے ایک خصوصی حکم نامہ جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین کی شق نمبر   35اے کو ختم کر دیا جس سے مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو اب بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔  مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں بھی تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔