بھارت کا کشمیر پر قبضہ،پاکستانی اپوزیشن غیر سنجیدہ، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سیاست کی نظر

ویب ڈیسک ۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کا خصوصی رتبہ ختم کرنے کے بعد جہاں پاکستانی سیاستدانوں کو ایک ہونا چاہیئے تھا اور دشمن کو ایک مضبوط پیغام دیتے مگر یہاں الٹی گنگا بہنے لگی۔ کشمیر کے مسئلے پر بلایا گیا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن کی سیاست کی نظر ہو گیا۔ اپوزیشن اراکین کی پارلیمنٹ ہاوٴس میں شدید ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس 20منٹ کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور عمران خان کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ حکومتی منسٹر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے جیسے ہی بولنا شروع کیا اپوزیشن نے اجلاس میں ہنگامہ آرئی شروع کر دی۔ اپوزیشن کے غیر سنجیدہ رویے نے ان کے کشمیر کے مسئلے پر سنجیدگی کا پول کھول دیا۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما کشمیر پر بات کرنے کی بجائے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا رونا روتے رہے۔

حکومتی رکن عظم سواتی نے ایوان میں قرارداد پیش کی مگر تحریک میں آرٹیکل 370 شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے کی نشاندہی شہباز شریف نے کی۔  پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر ہی نہیں، اس میں ترمیم کی جائے۔ شیخ رشید نے بھی اپوزیشن کی حمایت کر دی اور کہا قرارداد میں آرٹیکل 370 کا معاملہ شامل کیا جائے۔ حکومت نے ترمیم کے بعد آرٹیکل 370 کو شامل کر لیا۔