کابل حملہ ،افغان امن کو دھچکا، امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کیساتھ مذاکرات معطل کر دیئے

ویب ڈیسک ۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات معطل کر دیئے۔ کہتے ہیں امن مذاکرات اور حملے ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ امریکہ میں موجود طالبان وفد کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ہونے والے اہم مذاکرات معطل کر دیئے ہیں۔ مذاکرات معطلی اعلان انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاوٴنٹ سے کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات معطلی گذشتہ روز افغان دارالحکومت کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد کیا گیا۔ اس حملے میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغان حملےمیں 11افراد کےساتھ ایک امریکی فوجی بھی مارا گیا، افغان طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی، افغان طالبان کتنی دہائیوں تک جنگ لڑنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان فائر بندی پر متفق نہیں ہو سکتے تو انہیں مذاکرات کا حق بھی نہیں، انھوں نے یہ بھی لکھا یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے ٹویٹ انکشاف کیا کہ آج وہ طالبان رہنماوٴں کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ایک خفیہ ملاقات بھی کرنے والے تھے جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔