متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک ۔ متحدہ عرب امارات کے حکمران آئے دن کو نہ کوئی ایسی حرکت کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بین الاقوامی میڈیا کے خبروں کی زینت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک اقدام عرب امارات کی سر زمین پر یہودیوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کا فیصلہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اپنے ملک میں یہودیوں کی عبادت گاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عبادت گاہ 2022 تک مکمل کر کے یہودیوں کی عبادت کے لئے کھول دی جائے گیا۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں نہ تو یہودی آباد ہیں اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ عرب امارات کے سفارتی تعلقات ہیں۔

تاہم اماراتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی ایک مختصر تعداد دبئی، ابوظہبی اور شارجہ میں مقیم ہے اور ان کے پاس عبادت کی خاص جگہ موجود نہیں۔ عرب امارات میں مسجد، مندر، گردواروں اور چرچ کو سرکاری سطح پر تعمیر کئے گئے ہیں تاہم ملک میں کوئی یہودی عبادت گا موجود نہیں تھی۔

یاد رہے کہ یہودیوں کی عبادت گاہ کی تعمیر کا اعلان رواں برس فروری میں پاپائے روم کے پہلے دورے کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اماراتی حکومت نے ملک میں ایک ہندو مندر کا سرکاری طور پر افتتاح بھی کیا تھا۔