اب تک کیوں نہ نکالا: ن لیگی سراپا احتجاج، شریف خاندان باہر جا کر واپس نہیں آتا: پی ٹی آئی رہنمائوں کا جواب

لاہور( ڈیسک) ترجمان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ادویات کی ہائی ڈدیز سے نواز شریف کے جسم پر سوجن پیدا ہوگئی اور شوگر بڑھ گئی ہے، ڈاکٹرز کے مطابق جلد کچھ نہ کیا گیا تو معاملہ بگڑ جائے گا، سابق گورنر پنجاب اور ممتاز قانون دان سردار لطیف کھوسہ کہتے ہیں کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نواز شریف کے معاملے میں نہ جانے کہاں سے ماورائے عدالت شرائط لے آتے ہیں۔

نواز شریف کو انسانی بنیادوں پر ہی بیرون ملک علاج کے لئے جانے دیا جائے۔لیگی رہنما حیران ہیں کہ اب تک نواز شریف کو باہر جانے کیوں نہیں دیا جا رہا اور ان سے شیورٹی بانڈز کیوں طلب کیے جا رہے ہیں۔اس کے جواب میں پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے کہا ہے کہ شریف خاندان کا ریکارڈ اس قدر برا ہے کہ اس خاندان کا مطلوب فرد جو بھی باہر جاتا ہے واپس نہیں آتا شائد اس لیے حکومت ایک سزا یافتہ جھوٹے بیمار شخص کی واپسی کی ٹھوس ضمانت چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اول تو نواز شریف کو ایسی کوئی بیماری نہیں ہے جس کا علاج پاکستان نے اندر نہ ہو سکے، اگر حکومت 7ارب روپے کے بانڈز کے عوض مان گئی ہے تو یہ بانڈز جمع کیوں نہیں کروائے جاتے؟  شریف خاندان نے  اقتدار کے ہر دن قومی خزانے کو اربوں کے ٹیکے لگائے اپنے علاج کے ٹیکوں کیلئے اگر وہ 7 ارب روپے کے شورٹی بانڈز جمع کروا دیں گے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگر مفلوک الحال اور بیٹوں کے مقروض نواز شریف کے پاس پیسے نہیں ہیں تو وہ اپنے ان ایک کروڑ 28 لاکھ سے زائد ووٹرز سے اپیل کریں کہ وہ 7 ارب روپے کا بندوبست کریں اور اگر نواز شریف کا ہر ’’جانثار‘‘ووٹر ساڑھے 5سو روپے فی کس چندہ دے تو 7 ارب روپے بن جاتے ہیں،شہباز شریف اگر اپنے بھائی کے علاج کیلئے سنجیدہ ہیں تو ڈرامے بازی بند کر کے چندہ مہم شروع کریں۔

خرم نواز گنڈاپور نے کہاکہ اسحاق ڈار ملک سے بھاگ گئے واپس نہیں آئے ،حسین نواز بھاگا واپس نہیں آیا،حسن نواز بھاگا واپس نہیں آیا،شہباز شریف کا داماد علی عمران بھاگا واپس نہیں آیا شائد اسی لئے حکومت کو خطرہ ہے کہ نواز شریف بھاگا تو واپس نہیں آئے گا اور قومی خزانے کے اربوں روپے ڈوب جائینگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹائون کا قاتل شہباز شریف کس منہ سے انسانی ہمدردی کی بات کرتا ہے ۔شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثا آج بھی اس قاتل اعلیٰ سے اپنے پیاروں کے بہنے والے خون کا حساب مانگ رہے ہیں۔خرم نواز گنڈاپور نے کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے ایک اسیر ہمایوں بشیر کو گردوں کا عارضہ لاحق تھا اور اسکے ڈائلسز ہو رہے تھے مگر اسے مرنے کے دن تک ضمانت ملنا دور کی بات اس کی درخواست ہی سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئی تھی اسی لئے ہم افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ امیر کا پاکستان اور غریب کا پاکستان اور ہے۔

دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری ریلوے فرخ حبیب نے کہا ہے کہ حکومت نے نواز شریف کے علاج کے حوالے سے بروقت فیصلہ کیا، اب مسلم لیگ (ن) کی قیادت ضمانت نہ دے کر وقت ضائع کر رہی ہے جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت ضمانت دے اور ان کو علاج کے لئے ملک سے باہر لے جائے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہی ہے اور ساتھ ہی وقت بھی ضائع کر رہی ہے۔