نواز شریف چلے گئے۔۔۔ مگر۔۔۔!

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف بلااآخر علاج کے لئے لندن روانہ ہو گئے۔ اس طرح ایک طویل مباحث اپنے انجام کو پہنچا لیکن۔۔۔انکی روانگی ملکی نظام اور انداز سیاست پر انگشت اٹھا رہی ہے۔

اگرچہ نواز شریف ملک کی ایک بہت بڑی جماعت کے سربراہ ہیں وہ وطن عزیز کے تین مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں لیکن ملکی سیاست گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔۔۔۔ کبھی وہ اینٹی بھٹو ووٹ کے علمبردار تھے اور کبھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ووٹ کے۔۔۔

وہ کس وقت کس وکٹ پر کھیل رہے ہوں معلوم ہی پڑتا۔۔۔ یہی ان کی سیاسی کامیابی کا راز بھی ہے۔۔۔
اب وہ علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہو چکے ہیں لیکن اب بھی کئی سوالات ایسے ہیں جنکا اس نظام عدل اور نظام سیاست کو جواب دینا ہی ہو گا۔۔۔

کیا ملکی نظام موم کی ناک ہے جسے کوئی بھی صاحب اختیار جب چاہے جس طرف چاہے موڑ دے۔۔۔۔؟
کیا طاقتور کو قانون کے سامنے جوابدہ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔؟
کیا غریب کو اسی طرح بیرون ملک علاج تو درکنار سرکاری ہسپتال میں کسی ماہر ڈاکٹر کو بلا کر چیک کرایا جا سکتا ہے۔۔۔۔؟
کیا کسی مفلوک الحال قیدی کو اسی رفتار سے انصاف کے عمل سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔۔۔۔؟
کیا نظام کو بدلنے کے دعوے کرنے والی عمران حکومت اسی نظام کے سامنے دو زانو نہیں ہے۔۔۔۔؟

ہم اس مفروضے کو زیر بحث نہیں لاتے کہ اچانک بیماری اور بیماری میں شدت کیوں ہوئی مگر اس سے اس نظام کی خرابیاں ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آئی ہیں اور یہ وہی خرابیاں ہیں جن کو درست کرنے کےلئے عمران حکومت دعوے کرتی رہی ہے.
وفاقی وزیر فواد چودھری نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے بعد پریس کانفرنس مین کہا کہ نواز شریف کا اس طرح جانے سے معاشرے کی ناکامی کا تاثر گہرا ہوا ہے، اس فیصلے پر سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے حوالے سے آج کابینہ کے اجلاس میں غور ہوگا، ہفتے کے دن ان کا فیصلہ ہوا جو پیر کو بھی ہو سکتا تھا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم نواز شریف کی صحت کے لیے دعا گو ہیں مگر جس طرح بھیجا گیا وہ طریقہ کار غلط ہے، میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانا چاہیے، وہ سارے قیدی جو جیلوں میں ہیں کیا ان کا حق نہیں کہ ایک حلف نامہ دیں اور چلے جائیں۔

دوسری جانب نواز لیگ کے بزرجمہر بھی ایسے ہی شدت پسندانہ جوابی بیانات داغ رہی ہے۔۔۔
اب کوئی جو بھی کہے یہ تو طے ہے کہ نوازشریف چلے گئے۔۔۔۔ نظام مزید بگڑ گیا۔۔۔۔ انصاف کے عمل پر سوالات پیدا ہوئے۔۔۔۔۔ حکومت کمزور ہوئی اور طاقت کا سرچشمہ اب سوکھنے والا ہے۔۔۔۔۔!