’’ تنگ دل ‘‘عمران اور ’’سنگ دل‘‘ ن لیگ کے بیچ پھنسے نوازشریف

تجزیہ : نہال ممتاز

پاکستانی عوام کے لیے یہ بات قطعی حیران کن نہیں کہ ہمارے سیاست دانوں کی ’’گرفتاری اور بیماری‘‘  لازم و ملزوم ہیں۔جیل کی چار دیواری سے باہرچاک چوبند اور مزید اگلی نصف صدی تک خود کو مناصب اعلیٰ کے لیے موزوں اور فٹ سمجھنے والے جیسے ہی قید و بند کا شکار ہوتے ہیں ان کی معلوم اور نامعلوم بیماریاں’’بن بادل برسات‘‘  کی طرح آن دھمکتی ہیں۔

’’یہ وطن ہمارا ہے ،ہم ہیں حکمراں اس کے‘‘  اس زعم کے مارے ہوئےاس ملک کی ہر شے پر اپنا حق سمجھتے ہیں سوائےجیلوں کے۔حالانکہ جیلیں بھی اسی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنتی ہیں،جن کے پیسوں پر یہ باہر عیش و آرام کر تے ہیں۔یہاں یہ لطیفہ برمحل ہےکہ ایک ڈاکو بینک ڈکیتی کرتے پکڑا گیا تو اپنی صفائی میں یہ بیان دیا کہ ڈکیتی کیسی ، یہ ملک بھی ہمارا ہے،یہ بینک بھی ہمارا ہے ،اس میں پڑے پیسے بھی ہمارے ہیں،تو اسے جواب ملتا ہے کہ چلئے! پھر اس ملک کی جیلیں بھی توآپ ہی کی ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ جیل کی چاردیواری تعمیر کرتے وقت اس کے سیمنٹ مصالحہ میں ایسے کون سے ’’بائیوکیمیکل ہتھیاروں‘‘  کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی زد آتے ہی ان نازک طبع سیاست دانوں کی جان حلق میں آجاتی ہےاور انہیں ’’ خاص ویکسینیشن ‘‘ کے لیے بیرون ملک بھیجنا  ناگزیر ہو جاتا ہے۔

ماضی کی ان گنت مثالوں سے قطعی نظر حالیہ سیاسی بیمار کی بات کی جائے تو ملک کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے میاں نواز شریف نے ان دنوں خوب سرخیاں بٹوریں۔ کئی دن سے میاںصاحب حکومت اور خود اپنی جماعت ن لیگ کے درمیان شٹل کاک بنے رہے۔سب سے پہلے تو’’شیر آیا،شیر آیا ‘‘  کے گڈریے کی طرح ان کے ماضی کے جھوٹ ان کے علاج کے آڑے آ تے رہے ۔حکومت کے خلاف ’’کوئی شرم ہوتی ہے حیا ہوتی ہے  ‘‘  ،سے لے کر  ’’کوئی رحم ہوتا ہے ،کوئی انسانیت ہوتی ہے ‘‘  جیسے کھوکھلے نعروں سے عوامی ہمدردی بٹورنے اور اپنی نور العین سیاسی جانشین مریم کو ساتھ لے جانے کی ناکام کوشش کے باوجود میاں صاحب بالآخر  ’’قطری اُڑن کھٹولے‘‘  پر سوار ہو کراپنے  ’’ وطن ‘‘ روانہ ہونے میں کامیاب ہو ہی گئے کہ کر چلے ہم علاج کا جتن ساتھیو،اب تمہارے حوالے وقت یہ کٹھن ساتھیو۔

ظاہر ہے کہ میاں نواز شریف بھی انہی بائیو کیمیکل ہتھیاروں کا شکار ہیں جن کے علاج کے لیے یہ اپنے تین مرتبہ کےدوراقتدار میں ایک بھی ہسپتال یہاں نہیں بنوا سکے۔اور اگر دیکھا جائے تو اس کی ضرورت بھی کیا ہے،عام آدمی تو مہنگائی،لوڈ شیڈنگ،سموگ اور ان جیسے کئی اینٹی بائیوٹک ’’ٹیکوں‘‘ کے زیراثر اپنی قوت مدافعت کافی بڑھا چکا ہے۔بدقسمتی سے اسے جیل کی ہوا کھانی پڑ جائے تواسے وی آئی پی سہولیات سے اسے اتنا دور رکھا جاتا ہے جتنا جہنمیوں کو جنت کی خوشبو سے بھی دور رکھنے کی بات کی جاتی ہے۔پھر جیل میں چھترول تو ویسے بھی عام قیدی کی خوراک کے بجٹ میں بالکل فری رکھی جاتی ہے جس سےان کی طبیعت ایک دم فریش رہتی ہے۔

عام مجرم پر کسی بھی ایسی بیماری میں مبتلا ہونے کی ممانعت ہے جس کے علاج کے لیے جیل کی ڈسپنسری کے علاوہ کہیں اور جانے کی بات کی جائے۔ ایسے میں ’’خاص علاج ‘‘ کی ضرورت تو صرف خاص لوگوں کو ہی ہے۔ویسے بھی یہ’’ خاص علاج‘‘  صرف انگریز ہی کر سکتے ہیں کیوں کہ پرانے آقائوں کو ہی نئے آقائوں کی’’ رَگ رَگ‘‘ کا علم ہےاور وہی ان کی نامعلوم قسم کی بیماریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پھر بات اعتبار کی بھی ہے،اب جو اعتبار ہمارے حکمراں اغیار پر کر سکتے ہیں وہ بھلا اپنوں پر کہاں کیا جا سکتا ہے ۔لوگ تاحال اس تذبذب کا شکار ہیں کہ میاں صاحب کیا واقعی بیمار ہیں ؟ اور اگر سچ پوچھا جائے تو اتنے دن بیماری کا رونا دھونے والوں اور سننے والوں کی اکثریت کو میاں صاحب کی بیماری کا نام تک نہیں پتا۔

چلیں! روزانہ بریکنگ نیوز کی طرح ان کے پلیٹلیٹس کی رپورٹیں جاری ہونے پر اتنا مان بھی لیا جائے کہ وہ سچ میں بیمار ہیں اور بیرون ملک ہی اس بیماری کا علاج ممکن ہے ۔اور یہ بھی مان لیتے ہیں کہ حکمران جماعت ان سے گن گن کر سیاسی بدلے لے رہی ہے تبھی وہ ایسا خلاف قانون حکم تو جاری کر سکتی ہے جس میں ایک سزا یافتہ مجرم کا نام ای سی ایل سے نکالا جا سکے لیکن واپسی کی ضمانت کے طور پر بانڈز جمع کرانے جیسا ’’خلاف سیاسی شرع ‘ ‘ حکم نہیں دے سکتی تھی۔برسر اقتدار حکومت کی ’’تنگ دلی‘‘  کا رونا تو ہم اگلے 3 سال تک رو ہی لیں گے مگر یہاں بات’سنگ دل‘‘  ن لیگ کی ہے کہ وہ آخر یہ ضمانت دینے سے اس قدر کنی کیوں کتراتی رہی۔دیکھا جائے تو 7 ارب ان کے لیے ایسی کوئی بڑی رقم بھی نہیں ،اور وہ بھی جو میاں صاحب کے ساتھ ہی واپس ہو جاتی۔تو پھر ضمانت نہ دینے کی ضدنیت کی خرابی کا پتا تو دے ہی رہی ہے کہ اس سے قبل کوئی ’’شریف ‘‘ مائی کا لعل پنچھی اور پردیسیوں کی طرح باہر جا کر لوٹ کر نہیں آیا۔ لیکن اس سے ایک امکان یہ بھی دکھائی دینے لگا کہ انتہائی تشویشناک صورتحال کے شکار میاں نواز شریف کے علاج میں جان بوجھ کر دیر کر کے کہیں انہیں ’’سیاسی شہید‘‘ بنانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔

جن کو یہ بات انتہائی سخت معلوم ہو رہی ہے ان کی یادداشت کے لیے عرض ہے کہ یہ وہی شریف خاندان ہے جس کے’’ انتہائی مطلوب‘‘ سپوت اپنی والدہ کی تدفین اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے بھی نہیں آئے ۔ایسے میں 70 سال کے میاں صاحب جو ’’وطن عزیز ‘‘  میں اپنےآخری ایام گزارنے کو بے تاب ہیں  ،ان کی’’ سیاسی شہادت‘‘ سے بھلا کون فائدہ نہیں اٹھانا چاہے گا۔ بہر کیف میاں صاحب جن کے جاں بلب ہونے کا واویلا ن لیگ کئی دن سے مچا رہی تھی،ساری دنیا کے سامنے وہ اطمینان بخش حالت میں طیارے میں سوار ہو کر واضح کر چکے ہیں کہ فی الحال ان کی صحت یا بیماری کا فائدہ نہ تو حکومت اٹھا سکتی ہے اور نہ ہی ن لیگ۔ورنہ زندہ اور مرے ہوئے ہاتھی کی مثال تو سب نے سن ہی رکھی ہوگی ،اب اتنا رحم اور انسانیت تو دکھائی جا سکتی ہے کہ اپنے تین بار کے حکمراں کے بارے میں ہم ایسی مثالیں نہ ہی دیںاوریہ دعا اور امیدکریں کہ جس طرح صاحب ایکسائٹمنٹ میں وہیل چیئر کی مدد لیے بغیر خراماں خراماں چلتے ہوئے ن لیگیوں پر الوادعی نگاہ ڈالتے ہوئے روانہ ہوئے،ویسے ہی صحت یاب ہو کراپنے قدموں پر چلتے ہوئےپاکستان واپس آئیں اور ایک لیڈر کی طرح اپنے خلاف قانونی جنگ کاسامنا کریں۔