آخر نواز شریف کو بیماری ہے کیا؟

نہال ممتاز
نواز شریف تو لندن چلے گئے لیکن اپنے پیچھے ان گنت سوال چھوڑ گئے جو تاحال پاکستانی میڈیا اور سوشل نیٹ ورک سائٹ پر موضوع سخن بنے ہوئے ہیں۔خاص طور پر بیمار نواز شریف اپنے علاج کے لیے جس صحت مند انداز میں روانہ ہوئے ،اس کے بعد سے یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں ایک بار تو ضرور اٹھتا ہے کہ کیا نواز شریف واقعی بیمار ہیںاور اگر ہیں تو آخر انہیں ایسی کیا بیماری ہے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا؟

یہاں بہت سے لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اتنے دن تک نواز شریف کی بیماری سرخیوں میں چھائی رہی مگر اس بیماری کے نام تک سےعوام و خاص کی اکثریت واقف نہیں ۔بس بار بار ان کے پلیٹلیٹس کی تعداد میں اونچ ،نیچ کی رپورٹیں جاری ہوتی رہیں۔تو چلئے آئیے نواز شریف کی اس انوکھی بیماری کے بارے میں جانتے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ نواز شریف صاحب کو کوئی ایک بیماری لاحق نہیں بلکہ وہ توچلتے پھرتے ’’ The Man who was a Hospital‘‘ کا عملی نمونہ ہیں۔یعنی کئی بیماریوں کا مجموعہ۔مرغن کھانوں کے دلدادہ ہونے کی وجہ سے وہ دل،گردوں اور ذیابیطس کے مریض تو ہیں ،ساتھ ہی اپنے خلاف قانونی جنگ کا سامنا کرتے ہوئے وہ ذہنی دبائو  یعنی سٹریس کا شکار بھی ہیں۔اب آتے ہیں ان کی اس بیماری کی طرف جس کے علاج کی غرض سے وہ لندن روانہ ہوئے ہیں اور بقول ن لیگ اس بیماری میںان کی زندگی کو سخت خطرہ لاحق ہے۔اس بیماری کا نام ہے’’ اکیوٹ  آئی ٹی پی‘‘۔

مضحکہ خیز بات ہے کہ آئی ٹی پی کو اگر الٹا پڑھا جائے تو پی ٹی آئی بن جاتا ہے ،اور دیکھا جائے تو پی ٹی آئی بھی میاں صاحب کے لیے کسی جان لیوا بیماری سے کم نہیں۔

خیر  اکیوٹ آئی ٹی پی کیا بات کی جائے توطبی اصطلاح میں اس بیماری کو Immune thrombocytopenic purpura (آئی ٹی پی) کہتے ہیں۔ اکیوٹ آئی ٹی پی دو طرح کا ہوتا ہے، ایک عارضی یا مختصر دورانیہ کا اور دوسرا طویل المدت ۔
اس بیماری میں انسان کے خون میں پلیٹیلٹس کی تعداد میںکمی واقع ہو جاتی ہے۔پلیٹلیٹس ریڑھ کی ہڈی میں واقع بڑے خلیوں میں پیدا ہونے والے خون کے خلیات ہوتے ہیں (میگاکیروسیٹس)۔ پلیٹلیٹ خون جمنے کے عمل میں ایک کردار ادا کرتے ہیں۔

عام طور پر انسان کے جسم کی قوت مدافعت انفیکشنز سے لڑنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے لیکن آئی ٹی پی کے دوران قوت مدافعت بری طرح متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے پلیٹلیٹس بار بار ٹوٹتے رہتے ہیں۔ پلیٹلیٹ کی غیر معمولی سطح خون بہنے کی وجہ بنتی ہے۔مختصر دوانیے کی علالت میں یہ عارضہ 6ماہ میں ختم ہو سکتا ہے لیکن علامات شدید ہوں تو ، علاج میں پلیٹلیٹس کی تعداد کو بڑھانے کے لئے دوائوں کے ساتھ ساتھ سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔آئی ٹی پی کے واقعات عمر کے ساتھ بڑھتے ہیں اور یہ عارضہ 60 سال کی عمر میں زیادہ عام ہوتا ہے۔

اس بیماری کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں موروثی سے لے کر غذائیت کی کمی،شراب نوشی کی زیادتی،ادویات کا زیادہ استعمال وغیرہ شامل ہیں۔اب میاں صاحب کو یہ بیماری کس وجہ سے لاحق ہے یہ تو وہ اور ان کے معالج ہی جانتے ہیں،بہر کیف اس بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن ہے ،یہی وجہ ہے کہ مخالفین  اس بیماری کوملک سے فرار کا بہانہ قرار دیتے ہوئے میاں صاحب کا ایک ڈرامہ قرار دے رہے ہیں کیونکہ آئی ٹی پی کی علامات انہیں میاں صاحب میں ظاہری طور پر تو دکھائی نہیں دے رہیں۔اس صورت میں تو میاں صاحب واقعی آئی ٹی پی کے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے شکار ہی لگتے ہیں۔بہرحال اللہ انہیں شفا کاملہ عطا فرمائے۔آمین