بڑی خوشخبری، عافیہ صدیقی کی رہائی کے امکانات روشن

لاہور( ویب ڈیسک)واشنگٹن میں عافیہ صدیقی پر لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پرامریکی تجزیہ کار مائیکل کوگیل نے انکشاف کیا ہے کہ شکیل آفریدی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا کوئی امکان نہیں ہے، البتہ اب امریکا طالبان مذاکرات میں عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ فریقین نے اس معاملے سے متعلق تصدیق نہیں کی لیکن اس سے قبل رواں سال مارچ میں بھی افغان طالبان اور امریکی حکام کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات میں قیدیوں کی حوالگی کیلئے فہرستوں کا تبادلہ کیا گیا تھا جس میںڈاکٹر عافیہ کا نام نمایاں تھا۔

امریکی جیل کی قیدی نمبر 650 ڈاکٹر عافیہ صدیقی کواپریل 2003ء میں سرکاری اہلکاروں نے اس وقت اغوا کرلیا تھا، جب وہ کراچی سے اسلام آباد بذریعہ ٹرین آرہی تھیں۔ یہ پرویز مشرف کا دور تھا اور امریکی اہلکار و جاسوس اسلام آباد کی سڑکوں پر دندناتے پھرتے تھے۔ پہلے سرکاری طور پر ڈاکٹر عافیہ اور ان کے بچوں کی گرفتاری کی تصدیق کی گئ لیکن بعد میں ایسے کسی واقعے کی تردید کر دی گئی۔ مشرف دور میں جہاں دیگر ہزاروں افراد کو ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ وہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی امریکی حکام کے حوالے کر دی گئیں۔

بعدازاں امریکی حکام نے عافیہ صدیقی کی افغانستان سے گرفتاری کا دعویٰ کر کے ان پر مقدمہ چلایا۔امریکی عدالت نے عافیہ صدیقی کو 85 سال سے زائد کی قید سنائی تھی۔ گزشتہ سولہ برسوں میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کیلئے ملک کی کئی جماعتوں نے کوشش کیں۔ مذہبی جماعتوں کے علاوہ مسلم لیگ ’’ن‘‘، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے بھی انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن عملاً کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

افغان طالبان نےٹرمپ کے سامنے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ ایک بار پھر دہرا دیا ہے جس کے منظور ہونے کے قوی امکانات ہیں۔واضح رہے کہامریکی صدر ٹرمپ نےافغان طالبان سے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کا ارادہ افغان طالبان کی قید سے امریکی اور آسٹریلوی پروفیسرز کی رہائی کے نتیجے میں کیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے پاس امریکا اور افغان حکومت کے حامی لگ بھگ ایک ہزار قیدی ہیں، جن کو یہ دونوں حکومتیں رہا کرانا چاہتی ہیں۔