چینی اور عربی ہمارے چلغوزے کھا گئے؟

نہال ممتاز

بات ہے دو دہائی پہلے کی جب چلغوزہ آج کی مونگ پھلی کے دام پر فروخت ہوا کرتا تھا۔اگرچہ اس وقت بھی اس کی شان باقی خشک میوئوں سے بڑھ کر تھی ،پھر بھی متوسط طبقہ اس سوغات سے کسی حد تک لطف اندوز ہونے کی جسارت کر ہی لیتا تھا۔پھر آئی نئی ہزاری اور اس میں یکلخت چلغوزہ بھی ہزاروںمیں دستیاب ہونے لگااور آج اس کی قیمت 8000روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے یعنی فی گرام سونے سے بھی زیادہ۔

جس طرح سونے کی دکان پر ڈاکا پڑسکتا ہے اب بالکل یہی صورتحال چلغوزے کی ہو چکی ہے۔گزشتہ دنوں وزیرستان میں ڈیڑھ کرو ڑ روپے کے چلغوزے چوری ہونے اور بعدازاں برآمد ہو کر اغیار کے ہاتھ بیچے جانے کی خبر بھی منظر عام پر آئی۔

بہرحال سونے سےبڑھ کر مہنگا یہ میوہ کسی سونے کی کان سے نہیں نکلتا بلکہ درختوں پر ہی اگتا ہے جوبلوچستان کے ضلع ژوب کے پہاڑوں پر پائے جاتے ہیں۔ ژوب کا یہ پہاڑی سلسلہ آگے افغانستان تک جاتا ہے۔ایران اور افغانستان سے متصل سرحد کے باعث کوئٹہ کی خشک فروٹ مارکیٹ کا شمار پاکستان کی سب سے بڑی مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔کسی زمانے میںکوئٹہ کی ریڑھیوں پر سر عام ملنے والے اس دبلے پتلے میوے کے اچانک نایاب ہونے کی وجہ بڑے عرصے تک یہ بتائی جاتی رہی کہ امریکا نےفغانستان میں تورا بورا کے پہاڑی علاقے پر بم مار مار کر چلغوزے کے سارے درخت اڑا دئیے ہیں۔

پاکستان میں جو درخت بچ کھچ گئے، وہ خشک سالی کا شکار ہوگئے جس سے پیداواربظاہر کم ہوتے ہوتے محض 30 فیصد رہ گئی اور اس 30 فیصد کا بھی زیادہ تر باہر ایکسپورٹ کیا جا رہا ہے۔ چلغوزے کے بیوپاریوں کے مطابق جو ملک سب سے زیادہ ہمارے چلغوزے کھا رہے ہیں ان میں چین اور عرب سرفہرست ہیں۔چینی اور عربی کھانوں میں چلغوزے کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جبکہ کچھ ادویہ سازی میں بھی چلغوزے اپنا کمال دکھا رہے ہیں۔

پاکستان جس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کے جنگلات کا 20 فیصد چلغوزے کے درختوں پر مشتمل ہے ،وہاں کی 20 فیصد آبادی بھی چلغوزے کھانے کی متحمل نہیں ہو پا رہی اور چلغوزے کی قیمت پوچھنے کی حد تک محدود ہو چکی ہے۔پچھلے دنوں تو یہ افسوس ناک خبر بھی سننے کو ملی کہ چلغوزہ جزوی طور پربکنا ہی بند ہو گیا۔اگر  چینی اور عربی اسی طرح ہمارے چلغوزے کھاتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ڈرائی فروٹس کی دکانوں میں فقط مرتبانوں کی زینت بنا یہ خشک میوہ نیشنل میوزیم کی زینت بنا دکھائی دے گا جس پر یہ تختی چسپاں ہو گی۔

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم