فلسطین میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری روکنا ہو گی:سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک (ویب ڈیسک ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ فلسطین اسرائیل کا تنازعہ بین الاقوامی برادری کے لیے سب سے سنگین چیلنج ہے اور یہ بات افسوس ناک ہے کہ گزشتہ ایک سال میں اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ابھی بھی صورتحال کافی خراب ہے۔سیکرٹری جنرل کا یہ پیغام ان کی کابینہ کی رکن ماریہ لوئیزا ریبیرو ویوٹی نے فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے بین الاقوامی دن پر منعقدہ اقوام متحدہ کمیٹی کے اجلاس میں پڑھ کر سنایا۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطین میں تیزی سے بڑھتی اسرائیل کی غیر قانونی  آبادکاریاں، فلسطینی گھروں کو مسمار کرنے جیسکارروائیوں کو روکنا ہو گا اور ان اقدامات سے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر مبنی فلسطینی ریاست کے قیام کے عمل کو نقصان پہنچانے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل، فلسطین اور ان کے حمایتیوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ وہ فلسطین میں راکٹ اور مارٹر بموں سے حملوں کو روکیں اور دو ریاستی حل میں اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کریں کیونکہ اس کا کوئی قابل عمل متبادل حل نہیں ہے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل کا دو ریاستی حل جماعتوں کے مابین صرف مذکرات سے ہی ممکن ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور طویل اتفاق رائے سے تشکیل پانے والی حدود پر عمل پیرا ہونے سے ایک منصفانہ اور پائیدار حل نکلے گا اور بیت المقدس دونوں ریاستوں کا دارالحکومت ہوگا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مبصر ریاض منصور نے فلسطینی صدر محمود عباس کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ فلسطینی صدر  کہا کہ فلسطین کے عوام 70 سال سے زیادہ عرصے سے مسائل اور مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور کئی دہائیوں کی ناکامیوں اور مایوسی کے باوجود ہم کثیرالجہتی حکم یعنی بین الاقوامی قانون کے احترام کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست اپنے اداروں میں امن اور فلسطینی عوام خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کی خودمختاری کے ذریعے بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے لیے کوششوں کرے گا۔