العریبیہ شوگر مل کیس، اثاثے منجمد ہونے پر شریف خاندان ہائیکورٹ جا پہنچا

لاہور (ڈیسک)شریف خاندان نے العریبیہ شوگر مل کے اثاثہ جات منجمد کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب، تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب لاہور نے خلاف قانون اقدام کرتے ہوئے العربیہ شوگر مل کے اثاثہ جات کو منجمد کیا ، درخواست گزارشہباز شریف، سلمان شہباز سمیت دیگر کیخلاف نیب لاہور میں انکوائری زیر التوا ہے۔

چیئرمین نیب کو سیکشن 12 کے تحت نیم عدالتی پاور دی گئی ہیں، قانون کہتا ہے کہ جس کو یہ اختیار دیا جاتا ہے وہ اس پاور کو آگے کسی کو نہیں دے سکتا، چیئرمین نیب کے اختیارات ڈی جی نیب نے استعمال کیے جو قانون اجازت نہیں دیتا، ،درخواست گزار کیخلاف اس سے قبل کوئی بھی ریفرنس یا انکوائری التوا ء میں نہیں ہے، کمپنی کی شیئرزہولڈر کے علاوہ قانونی طور ہر الگ حیثیت ہے ،کمپنی کے اثاثہ جات سے شیئرز ہولڈر اور ڈائریکٹرز کا کوئی تعلق نہیں ۔

نیب بیورو کی جانب سے درخواست گزار کی کمپنی پر مانیٹرنگ آفیسر تعینات کیا گیا جو غیر قانونی ہے ،اس معاملے میں کمپنی کی ایک الگ قانونی حیثیت ہے ،ملزم کے اثاثہ جات سے کوئی تعلق نہیں ہے ،کمپنی نہ ہی مجرم ہے اور نہ ہی کسی کی رشتہ دار ہے ،رکمپنیز ایکٹ کی شق 41 بی کے تحت جب تک ایس ای سی پی انکوائری نہ کرلے تب تک ریفرنس فائل نہیں کیا جا سکتا ۔استدعا ہے کہ فاضل عدالت نیب کا 25 نومبر 2019 کے آڈر کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور چیئرمین نیب سمیت دیگر کو کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سے روکے۔