سعودی طالبعلم کی امریکہ میں بڑی کارروائی ، کئی ہلاک و زخمی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)مریکی ریاست فلوریڈا کے شہر پنساکولا کے بحری اڈے پر ایک سعودی طالب علم نے فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت محمد سعید الشامرانی کے نام سے ہوئی ہے جو سعودی عرب کی فوج کا رکن ہے اور ایک طالب علم کے طور پر اس بحری اڈے پر تربیت حاصل کر رہا تھا۔ حکام کے مطابق سعودی طالب علم کو کلاس روم میں حملے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مقامی شیرف کے دفتر نے حملے میں آٹھ دیگر افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آور نے ایک ہینڈگن کا استعمال کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاس واقعہ پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سعودی عرب کے بادشاہ سلمان نے فلوریڈا کے شہر پنساکولا میں ہونے والے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ اور دوستوں سے اظہار تعزیت کیا اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق ’سعودی بادشاہ کا کہنا ہے کہ سعودی عوام حملہ آور کے وحشیانہ اقدام پر سخت برہم ہیں، اور یہ کہ یہ شخص کسی بھی صورت میں امریکی عوام سے محبت کرنے والے سعودی عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا۔‘

بدھ کو بھی پرل ہاربر فوجی اڈے پر ایک امریکی اہکار نے فائرنگ کر کے دو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
حکام کو پنساکولا کے جنوب مشرق میں قائم بحری اڈے پر فائرنگ کے واقعے کی اطلاع مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 51 منٹ ہر موصول ہوئی تھی۔ ایسکیمبیا کاؤنٹی شیرف کا کہنا تھا کہ ’جائے وقوع سے گزرتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی فلم کا سیٹ ہو۔‘دو افسران کو بھی گولیاں لگی ہیں لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔ فلوریڈا کے گورنر ران ڈی سانٹس کا کہنا ہے کہ ’یقیناً سعودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان متاثرین کے لیے کچھ کرے، سعودی حکومت پر ان کا قرض ہے کیوں کہ حملہ آور ان کا شہری تھا۔‘

امریکی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک متاثرین کے ورثہ کو اطلاع نہیں دی جاتی اس وقت تک کسی کا بھی نام ظاہر نہیں کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کو مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے۔ ’اس مشکل وقت میں میری دعاییں متاثرین اور ان کے خاندن کے ساتھ ہیں۔‘بحری اڈے کی ویب سائٹ کے مطابق اس میں 16 ہزار ملٹری جبکہ 7 ہزار 400 سوللین کام کرتے ہیں۔