اسلامی ملک میں نیم برہنہ مردوں اور عورتوں کے جسموں پر بنے ٹیٹوز کی نمائش

ڈیسک – نیم برہنہ مردوں اور خواتین کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد ملائیشیا کے ایک وزیر نے ٹیٹو نمائش کی تقریب کو ’فحش‘ قرار دے کر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ سیاحت، فن اور ثقافت کے وزیر کا کہنا تھا کہ نمائش ایک اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا مگر تقریب میں کسی بھی قسم کی عریانی کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

محمدین کیٹاپی نے کہا کہ یہ شو ’ملائیشیائی ثقافت کی عکاسی نہیں کر رہا تھا۔۔۔ ملائیشیا کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے۔‘ بی بی سی کے مطابق حال ہی میں ملائیشیا میں اسلامی قدامت پسندی کے بارے میں زیادہ بحث مباحثہ کیا جا رہا ہے۔

’ٹیٹو ملائیشیا ایکسپو‘ میں 35 ممالک کے افراد نے شرکت کی اور یہ شو ہفتے کے اختتام پر کوالالمپور میں منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام سنہ 2015 سے منعقد کیا جا رہا ہے لیکن صرف اس سال کے شو پر حکومت نے تنقید کی اور شو ترتیب دینے والوں کے خلاف ’سخت کارروائی‘ کا حکم دیا ہے۔ ایک بیان میں وزیر کیٹاپی کا کہنا تھا کہ وزارت کے لیے کسی ایسے پروگرام کی اجازت دینا ناممکن ہے جس میں اس قسم کی عریانی ہو.وائرل ہونے والی تصاویر میں ٹیٹو سے ڈھکے ہوئے افراد نے نیم برہنہ پوز بنائے ہوئے ہیں۔

ملائیشیا میڈیا نے چند تصاویر کو دھندلا کر دیا ہے۔ محمدین کیٹاپی نے مزید کہا کہ ’ہم مکمل تفتیشی رپورٹ کا انتظار کریں گے اور اگر کسی نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہو گی تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے سے نہیں کترائیں گے۔‘ ملائیشیا کی تقریباً تین کروڑ بیس لاکھ آبادی میں سے 60 فیصد مسلمان ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک مزید اسلامی قدامت پسندی کی طرف جا رہا ہے۔

رواں سال ایک مذہبی کورٹ نے پانچ مردوں کو ہم جنس پرستی کے جرم میں قید، لاٹھی سے مارنے اور جرمانے کی سزا سنائی۔ سنہ 2018 میں قدامت پسند ریاست تیرانگانو میں ہم جنس پرستی کے جرم میں دو خواتین کو جسمانی سزا سنائی گئی۔