بھٹو کے بعد کیا اب مشرف بھی زندہ رہے گا؟

نہال ممتاز
پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا ایک اور متنازعہ فیصلہ اداروں کے ٹکرائو کی خبر دے رہا ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کے مختصر فیصلے نے ہی جہاں ملک بھر کے سنجیدہ طبقات میں کھلبلی مچا کر رکھ دی تھی، وہیں اس کیس کے تفصیلی فیصلے نے سب کو انگشت بدنداں کر دیا ہے۔خصوصی عدالت کے ” بالخصوصی ” ججز نے”مرے کو مارنے” کا محاورہ سچ کر دکھانے کا جو عزم دکھایا ہے ،اس پرکئی دن تک عوامی ، سیاسی اور عسکری رد عمل اورصحافتی بحث و مباحثہ جاری رہے گا۔ یہ فیصلہ تاریخ ساز اس لیے ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی آرمی چیف(ر)،صدر( سابق) کو موت کی سزا سنائی گئی۔اس سے قبل جمہوری سیاستدان اورپاکستان کےوزیر اعظم رہ چکےذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دے کر تاریخ رقم کی گئی تھی۔بہرحال اس تازہ ترین تاریخ ساز فیصلے پر افواج پاکستان نے شدیدغیظ و غضب کا اظہار کیا ہے اور تفصیلی فیصلے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں جہاں واضح طور پرعدالتی فیصلے کے الفاظ کو آڑے ہاتھوں لیا، وہیں انتہائی نپے تلے الفاظ میں میٹھی میٹھی دھمکی بھی لگائی کہ افواج ملک کی حفاظت کرنا جانتی ہیں تو اپنے ادارے کی عزت و وقار کا دفاع کرنا بھی انہیں آتا ہے اور وقت آنے پر” دشمنوں” کو منہ توڑ جواب بھی دیا جائے گا،وہیں اس فیصلے پر آرمی چیف کی وزیر اعظم سے تفصیلی بات چیت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کا اشارہ دے کر یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی کہ ریاست کے یہ دونوں ستون ایک پیج پر ہیں ۔
یہ دونوں ستون کیا تیسرے ستون سے ٹکرانے جا رہے ہیں ؟ اس بات کا جواب آنے والے چند دنوں میں سامنے آ ہی جائے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ خصوصی عدالت کا یہ فیصلہ کتنا قابل عمل ثابت ہو سکتا ہے؟ کیا فوج اور حکومت کی مخالفت اس فیصلے کو کالعدم قرار دے پائے گی یا پھر واقعی مشرف کو بھٹو کی طرح پھانسی کا پھندہ پہنایا جائے گا؟ بادی نظر میں تو ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔77سالہ مشرف پردیس میں بسترعلالت پر ہیں،جسے کچھ لوگ بستر مرگ بھی کہہ رہے ہیں۔ وہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے بھی نہیں آسکے لیکن اپنے خلاف فیصلے سے کچھ دن پہلے ( شایدانہیں اس فیصلے کی بھاپ آ لگی ہو ) اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ہسپتال کے بیڈ پر اتنے بیتاب تھے جتنا( گستاخی معاف ) وہ یہاں سے بیماری کا ویزہ لگا کر باہر ہشاش بشاش پارٹیز کرتے وقت بالکل بھی نہ تھے۔اس حالت میں یقیناً انہیں تختہ دار پر نہیں لایا جا سکتا ،یہ بات خصوصی عدالت کے ججز بھی جانتے ہیں ،اس لیے کھمبا نوچ کر دل کو تسکین دینے کے لیے مشرف کی لاش کو پھانسی پر چڑھانے اور تین دن تک نشان عبرت بنانے کی خواہش کا اظہار کرنے سے خود کو روک نہیں پائے۔ مشرف واقعی غدار ہیں یا نہیں؟ان کے خلاف فیصلہ آئین کے مطابق ہے یا خلاف ہے؟ اس بات کو تو قانون دان اور قانون ساز ہی بہتر طور سمجھتے ہوں گے ،لیکن
عوام کی بھنویں اس لیے بھی عدالتی الفاظ پر تنی ہیں کہ یہ جوش جذبہ اور مثالی فیصلہ ہماری مقدس عدلیہ نے کبھی ایسے ملزمان کے لیے نہیں دکھایا جن کے کالے کرتوتوں پرپورا ملک ایسے فیصلوں کا طلب گار بنا ہوا تھا۔ زینب زیادتی کیس سے لیکر ماڈل ٹائون اور ساہیوال سانحے،قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی ،مشال خان قتل کیس،سانحہ بلدیہ فیکٹری،نقیب اللہ محسود قتل کیس اور ان جیسے کئی دیگر سنگین و المناک واقعات کے کرتا دھرتائوں کو نشان عبرت بنانے کے عوامی خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں کیا گیا ،بلکہ کہیں مصلحت تو کہیں انتشار کے اندیشے،کہیں ماضی میں ایسے کیسیز کے عبرت ناک اور مثالی فیصلوں کے فقید مثال ہونے کے حوالے تو کہیں انسانی حدود پامال نہ کرنے کا بہانہ بنا یا گیا ۔ظاہر ہے مشرف کیس میں یکا یک ان تمام حوالوں کو بالائے طاق رکھنا سب کو کھٹکے گا ہی۔
بہرحال ماضی میں مشرف نے کہا تھا کہ میں وردی میں ہوں یا نہ ہوں افواج پاکستان میرے ساتھ ہے۔اس بات کو افواج پاکستان کے شدید ترین ردعمل نے بالکل سچ کر دکھایا ہے۔اب یہ توصاف ہے کہ افواج پاکستان تو مشرف کے ساتھ ہے اور حکومت وقت چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔میڈیاکو بھی اس وقت اپنی ریٹنگ بڑھانے کا اچھا خاصا موقع ہاتھ آیا ہوا ہے ،رہےعوام، تو اکثریت کو اس غداری کیس کا کچھ زیادہ علم تو نہیں لیکن فیصلے کے الفاظ نے وقتی طور پر عوامی ہمدردیاں مشرف کے ساتھ کر دی ہیں۔بہرحال یہ فیصلہ دو “خصوصی” ججز کا ہے جسے ابھی اعلیٰ ترین عدالت میں چیلنج بھی کیا جائے گااور تب پتہ چلے گا کہ آزاد عدلیہ کی اپنی تمام عدالتیں ایک پیج پر ہیں یا نہیں۔ جہاں تک مشرف پر غداری کیس کا معاملہ ہے تو میرے جیسے نابلدعوام کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ پاکستانی آئین کی شق چھ ہائی ٹریزن یعنی سنگین غداری کے مطابق کوئی بھی شخص جس نے آئین کو معطل کیا ہو یا اسے منسوخ کیا ہو، غداری کا مرتکب قرار پاتا ہےاور اس جرم کی سزا موت یا عمر قید ہے۔اسی قانون کے تحت مشرف کو سزائے موت سنائی گئی ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرف دور میں ایسے چند” خصوصی” ججز نے ہی کو خصوصی حالات کے پیش نظر پرویز مشرف کو آئین میں ترامیم کا حق عطا کیا تھااور بات جب خصوصی حالات پر آجائے تو آئین و انصاف کے تقاضوں کو بالاتر رکھنے کی روایت کوئی نئی بات نہیں۔مشرف نے اپنے خلاف فیصلے پر صاف طور پر کہا کہ کچھ اعلیٰ عہدےداروں کی منشا کے مطابق فیصلہ ہوا ہےاور پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ آزاد عدلیہ کی تاریخ ایسے فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ خواہ نظریہ ضرورت کے خالق اور بانی جسٹس منیر کے”خصوصی” اقدامات کی بات کیا جائے یا بھٹو کیس میں جسٹس یعقوب کو ہٹا کر مولوی مشتاق کو لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا واقعہ یاد کیا جائے جب عدالتی کٹہرے میں دورانِ سماعت بھٹو کو بیٹھنے کی اجازت تک نہ تھی اور پھانسی لگا دینے کے کئی سال بعد جسٹس نسیم حسن شاہ کو یاد آیاکہ بھٹو کو غلط سزا سنائی گئی تھی اور جب ان سےپوچھا گیا کہ پھر آپ نے بھٹو کی سزائے موت پر کیوں دستخط کیے تو تاریخ سازجواب ملاکہ” جب دوسروں نے کردیئے تو میں نے بھی کر دیئے۔”ہائے رے معصومیت۔اب مشرف کیس میں بھی ہوسکتا ہے کہ فیصلہ سنانے والے کسی جج کو کچھ سال بعد( یا پرویز مشرف کے دار فانی سے کوچ کر جانے کے بعد) یاد آ جائے کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں اور تب تک مشرف کوبھی بھٹو کی طرح زندہ جاوید کر دیا جا چکا ہو۔