ٹرمپ ایران پر حملہ نہیں کر سکیں گے، امریکی پارلیمنٹ رکاوٹ بن گئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر کے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی راہ میں امریکی ایوان نمائندگان بڑی رکاوٹ بن گیا۔ صدر ٹرمپ کو ایران پر مزید حملوں سے روکنے کے لیے امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کا بل منظور کرلیا گیا۔

ایوان نمائندگان میں 194 کے مقابلے میں بل کو 224 ووٹوں سے منظور کیا گیا، 3 ری پبلکنز نے بل کا ساتھ اور 8 ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی جب کہ بل اگلے ہفتے سینیٹ میں بھیجےجانےکاامکان ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق بل کی منظوری کا امکان نہیں کیونکہ سینیٹ میں ری پبلکنزکی اکثریت ہے۔

اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہےکہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ٹرمپ ایران کے خلاف مزیدکارروائی کے مجاز نہیں۔

ڈیموکریٹس نے یہ اقدام امریکی صدر کے حکم پر عراق میں ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کونشانہ بنانے پر کیا۔

خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھاجس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

8 جنوری کی علی الصبح ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوج کے دو ہوائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں 80 ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا گیا تاہم امریکا نے اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔