ویب ڈیسک ۔ بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں پر جاری مظالم پر لیجنڈ بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ اب کھل کر بول پڑے، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ مسلمان ہو کر بھارت میں رہنا اب مشکل ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکار کی مذہبی سیاست نے مجھے اپنی مسلم شناخت کی طرف زیادہ متوجہ کر دیا ہے اور میں پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہوں، ۔ اب احساس ہونے لگا ہے کہ مسلمان ہوکر ہندوستان میں نہیں رہ سکتا۔۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کہ نریندر مودی خود ٹوئٹر پر نفرت پھیلانے والوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

نصیرالدین شاہ نے کہا کہ کہ موجودہ حالات سے خوفزدہ تو نہیں ہوں مگرغصے میں ضرور ہوں۔ وزیر اعظم مودی کے طلبہ کے ساتھ رویے پر حیرت نہیں ہے، مودی خود کبھی طالب علم نہیں رہے اس لیے انہیں طلبہ سے ہم دردی نہیں۔

یاد رہے کہ بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کے خلاف شدید احتجاج بدستور جاری ہے، مودی سرکار کی جانب سے اس احتجاج کو شدت عطا کرنے پر طلبہ پر بدترین تشدد کیا گیا۔