92 واں آسکر ایوارڈ ز میلہ تاریخ ساز کیوں رہا؟

92 ویں آسکر ایوارڈ ز میلہ تاریخ ساز کیوں رہا؟
لاس اینجلس (ویب ڈیسک)فلم جگت کے سب سے بڑے اعزاز آسکر کا میلہ اپنے اختتام کو پہنچا،اس سال یہ ایوارڈ کئی حوالوں سے تاریخ ساز رہا۔ایسا اس لیے بھی ہے کہ آسکر ایوارڈز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر انگریزی زبان کی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ دیا گیا۔جنوبی کوریا کے ڈائریکٹر بونگ جون ہو کی فلم”پیراسائٹ” نے 92ویں اکیڈمی ایوارڈز (آسکر ایوارڈز) میں بہترین فلم کے اعزاز سمیت چار شعبوں میں ایوارڈ جیت کرنئی تاریخ رقم کردی۔ ڈائریکٹر بونگ جون ہو کی فلم پیراسائٹ کو آسکر ایوارڈز میں 4 ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین سکرین پلے اور بہترین غیر ملکی زبان کی فلم شامل ہیں
یہ پہلی غیر انگریزی اور اولین ایشیائی فلم ہے، جس نے بہترین فلم کا آسکر ایوارڈ جیتا ہے۔’پیراسائٹ‘ دو خاندانوں کی کہانی ہے۔ اس فلم میں جنوبی کوریا کے ایک اقتصادی طور پر خوشحال خاندان اور ایک غریب گھرانے کے درمیان طبقاتی کشمکش کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم جنوبی کوریا کے دو خاندانوں کی کہانی بیان کرتی ہے جس میں سے ایک خاندان ایک چھوٹے سے، تاریک نیم تہہ خانے میں رہتا ہے جبکہ دوسرا امیر خاندان سیول کے پرتعیش گھر میں رہتا ہے۔یہ طنز و مزاح سے بھرپور فلم ہے جس کی کہانی دولت مند خاندان میں ملازمت حاصل کرنے والے غریب خاندان پر مبنی ہے،اگرچہ آسکر کے لیے نامزد ہونے والی فلم پیراسائٹ ایک فسانہ ہے لیکن اس میں پیش کیے جانے والے گھر حقیقت ہیں۔ انھیں “بینجیہا” کہا جاتا ہے اور دارالحکومت سیول میں ہزاروں افراد ان میں رہتے ہیں۔
اس سال بہترین اداکار کا ایوارڈ جوا کوائین فیونکس نے اپنی فلم”جوکر” کے لیے حاصل کیا۔اپنے فلمی کیرئیر میں بہترین اداکار کے طور پر یہ ان کا پہلا آسکر ایوارڈ ہے۔ اداکارہ رینے زیلویگر کو ان کی فلم”جوڈی” کے لیے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس فلم میں انہوں نے جوڈی گارلینڈ نامی خاتون کا کردار نبھایا تھا۔ جنگ عظیم اول پر بنی فلم”1917″نے 3 آسکر ایوارڈ حاصل کیے جبکہ”ونس اپون اے ٹائم ان ہالی وڈ” میں کام کرنے والے اداکار بریڈ پٹ کو بہترین معاون اداکار کا آسکر ایوارڈ دیا گیا۔ خیال رہے کہ بریڈ پٹ نے بھی بطور اداکار یہ پہلا آسکر ایوارڈ اپنے نام کروایا، اس سے قبل 2014 میں سامنے آئی ان کی فلم”12 ایئرز آف سلیو” کے لیے بھی انہیں بہترین فلم کے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ لورا ڈرن کے نام رہا جن کی اداکاری کو فلم”دی میرج سٹوری” میں خوب سراہا گیا تھا۔ انہوں نے ایوارڈ قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں موقع ملتا کہ وہ کسی کو یہ ایوارڈ دے سکتیں تو وہ گریٹا گرونگ اور لولا وانگ کے نام یہ ایوارڈ کرتیں۔ خیال رہے کہ یہ دونوں خواتین ہدایت کارائیں اس سال آسکر ایوارڈ میں بہترین ہدایت کار کی نامزدگی سے محروم رہیں۔
بہترین دستاویزی فلم کا اعزاز سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ میشل اوباما کی پروڈکشن کمہنی کی طرف سے بنائی گئی فلم ’دی امیریکن فیکٹری‘ کو دیا گیا۔ نیٹ فلکس کی طرف سے بنائی گئی اس دستاویزی فلم کی ہدایات جولیا رائشرٹ نے دی ہیں۔ اس فلم کی کہانی چینی امریکی تعلقات کے پس منظرمیں ایک پیداواری پلانٹ پر کام کرنے والے فیکٹری ملازمین کے گرد گھومتی ہے۔
واضح رہے کہ اس مرتبہ آسکر ایوارڈز کی تقریب خواتین کو خاطرخواہ نمائندگی نہ دینے اور نسل پرستی کے الزامات سے بھی دوچار رہی جبکہ تقریب کا کوئی باقاعدہ میزبان بھی نہیں تھا۔اس رنگا رنگ تقریب میں پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن نے بھی شرکت کی جن کے لباس اور بالوں کے رنگ کوسوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *