کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل سکتا ہے،عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کر دی

لاہور( ویب ڈیسک )کرونا وائرس دنیا بھر میں اپنی ہلاکت خیزی کے سبب دہشت کی علامت بنا ہوا ہے۔ اس وائرس کی نشاندہی گزشتہ برس دسمبر کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں ہوئی تھی اور اسے چین میں پھیلنے والے مرض کے طور پر لیا جا رہا تھا لین اب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ مختلف ممالک میں ایسے افراد میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو کبھی چین نہیں گئے، یہ بہت بڑے خطرے کے محض ابتدائی آثار ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس صورت حال کی نگرانی کے لیے اپنے ایک وفد کو چین بھی بھیجا ہے۔واضح رہے کہ چینی شہر ووہان سے سر اُٹھانے والے کورونا وائرس کا علاج تاحال دریافت نہیں ہوسکا ہے اور اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود یہ وائرس چین کی سرحدوں سے نکل کر 2 درجن سے زائد ممالک میں داخل ہوچکا ہے۔
دوسری جانب چین میں ہی گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سےمتاثرہ 103 افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی طورپر اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1016 تک جا پہنچی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 2500 کیسز سامنے آئے ہیں اور متاثرین کی تعداد 42 ہزار 600 تک جا پہنچی ہے۔بیجنگ میں محکمہ صحت کے حکام نے آج منگل کی صبح‌جاری کردہ تازہ اعدادو شمار میں بتایا کہ ہانگ کانگ اور ماکائو سے باہر 42 ہزار 638 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران مزید 108 افراد اس وائرس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے جبکہہلاکتوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس کھانسی ، چھینکنے یا متاثرہ شخص کو چھونے سے بھی ایک سے دوسرے انسان تک پھیلتا ہے۔ تاہم یہ سوال جو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کا جواب نہیں مل سکا کہ آیا یہ وائرس کتنی دیر تک فضاء میں زندہ رہ سکا ہے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کروناوائرس 45 منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس دوران یہ وائرس اپنے قریب موجود افراد پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ چھینک کے ذریعے نکلنے والے وائرس 4 میٹر یا 13فٹ تک جاسکتے ہیں۔تاہم ایک نئی تحقیق میں میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس 4 سے 5 دن کے درمیان زندہ رہ سکتا ہے۔ متاثرہ شخص کو چھونے کے 9 دن کے بعد دوسرا شخص اس کا شکار ہوسکتا ہے۔اس کی علامات نزلہ زکام ،خشک کھانسی اور نمونیہ کی صورت میں نمودار ہوتی ہیں۔