جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں گیارہ برس قید کی سزا

لاہور(بی بی سی )پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنا دی ہے۔

عدالت نے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج مقدمات میں ملزم کو الگ الگ ساڑھے پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ان پر 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

صحافی عباد الحق کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ 11 ایف ٹو اور 11 این کے تحت سزا سنائی۔

حافظ سعید سمیت ان کی تنظیم کے دیگر رہنماؤں پر غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔

حافظ محمد سعید سمیت دیگر کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے درج کیا تھا جبکہ انھیں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے 17 جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق جماعت الدعوۃ، لشکرِ طیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملات میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق ‘ان تنظیموں نے دہشت گردی کے لیے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز سے اثاثے بنائے اور پھر ان اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے لیے مزید فنڈز جمع کیے۔’

سی ٹی ڈی کا مؤقف تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثہ جات مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ ایسے فلاحی اداروں میں دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، الحمد ٹرسٹ اور المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔

محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مطابق حافظ سعید اور دیگر 12 افراد ‘انسدادِ دہشت گردی کے قانون 1997 کے تحت دہشت گردی کے لیے پیسے جمع کرنے اور منی لانڈرنگ کے مرتکب ٹھہرے ہیں اور ان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔’

سنہ 2014 میں امریکہ نے جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

اس کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔

حافظ سعید کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف دورانیوں کے لیے ان کے گھر پر نظربند کیا گیا ہے۔

سنہ 2017 میں 31 جنوری کو انھیں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں خدشہ نقصِ امن کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔

مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں یہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے کی گئی تھی۔

انھیں 10 ماہ کے بعد نومبر 2017 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس سے قبل انھیں نومبر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد بھی دسمبر 2008 میں بھی نظربند کیا گیا تھا جب کہ ان کی جماعت کے دفاتر سربمہر کر دیے گئے تھے۔ انڈیا نے ان حملوں کے لیے حافظ سعید اور ان کی جماعت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

تاہم اس وقت حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کی بنیاد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ان کی تنظیم پر عائد کی گئی پابندی کو قرار دیا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بھی حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کو نہ صرف کالعدم تنظیموں میں شامل کیا بلکہ ’فلاح انسانیت‘ کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولنس گاڑیوں اور ڈسپنسریوں کو بھی بند کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستانی حکومت کی طرف سے دہشت گردی تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور ان کی فنڈنگ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر مکمل اطمینان ظاہر نہیں کیا اور اس سال اکتوبر تک موثر اقدامات کرنے کا وقت دیا ہے۔