آسکرایوارڈ یافتہ پہلی ایشیائی فلم” پیراسائٹ” تامل فلم کا چربہ نکلی

لاہور( ویب ڈیسک)جنوبی کوریا کی فلم”پیراسائٹ” نے 92 ویں اکیڈمی ایوارڈ ز میں بہترین فلم کا ایوارڈ جیت کر تاریخ رقم کردی۔ اس کے ساتھ ، یہ فلم سب سے زیادہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی غیر انگریزی زبان کی فلم بھی بن گئی۔ بونگ جون ہو اور جن وو ہیون کو فلم “پیراسائٹ” کے لئے بہترین اسکرین پلے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فلم اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی پہلی ایشیائی فلم ہے ، لیکن اب اس کے بارے میں ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے۔لوگ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر فلم “پیراسائٹ” پر مستقل تبصرے کرتے رہتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فلم کا تصور تامل تجربہ کار اداکار وجے کی فلم “منسارہ کنا” سے چوری کیا گیا ہے۔ جس کی کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جو دوسرے اور زیادہ دولت مند خاندانوں کی ملازمت کے لئے اپنا راستہ بناتاہے۔
تامل فلم بینوں کا کہنا ہے کہ ” پیراسائٹ” اور1999 کی تامل فلم “منسارہ کنا” کےکہانی میں بہت ہی غیر معمولی مشابہت ہے۔ پیراسائٹ کی طرح ہی فلم ” منسارہ کنا” میںایک خاندان اپنی شناخت چھپاتا ہے اور ان کا ایک فرد ایک امیر کبیر خاتون کے گھر باڈی گارڈ کی حیثیت سے کام کرنے لگتا ہے،جس کا چھوٹا بھائی گھر میں نوکر کی حیثیت سے اور اس کی بہن گھر میں باورچن بن کر داخل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پیراسائٹ کو اکیڈمی ایوارڈز کی چھ کیٹگریز میں نامزد کیا گیا تھا ، جن میں ڈائریکٹر ، پروڈکشن ڈیزائن ، بین الاقوامی فیچر فلم ، فلم ایڈیٹنگ اور بہترین تصویری قسم شامل ہیں۔