” ایپل” کمپنی کوملازمین کا وقت ضائع کرنے پر معاوضہ دینا ہوگا،عدالتی فیصلہ

لاہور( ویب ڈیسک ) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل دنیا بھر اپنی مہنگی ترین مصنوعات کے حوالے سے جانی جاتی ہے،لیکن حال ہی میں اس کمپنی کو ملازمین کی تلاشی لینے کا عمل مہنگا پڑ گیا۔تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ”ایپل” اپنے ملازمین کے دفتر سے نکلتے وقت سامان کی تلاشی کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت کا معاوضہ ادا کرے۔
فرانسسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو کیلیفورنیا کی ری ٹیل اسٹورز پر گھنٹے کی بنیاد پر کام کرنے والے تقریباً 12 ہزار ملازمین کو لاکھوں ڈالرز کی ادائیگی کرنی ہوگی کیوں کہ یہ ملازمین لازمی تلاشی کے زمرے میں آتے ہیں۔عدالتی دستاویز کے مطابق ایپل کے ملازمین کو ٹائم آؤٹ کرنے کے بعد ایگزٹ سرچ کاؤنٹرز پر جانا پڑتا ہے جس میں 5 سے 20 منٹ تک لگ جاتے ہیں جبکہ مصروف ترین دنوں میں یہ دورانیہ 45 منٹ تک ہوجاتا ہے۔
جو ملازم تلاشی سے انکار کرتا ہے اسے انضباطی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے نوکری سے فارغ بھی کیا جاسکتا ہے۔قبل ازیں ایک ماتحت عدالت نے اس معاملے پر ایپل کے مؤقف کی حمایت کی تھی کہ ایگزٹ سرچ پر صرف ہونے والا وقت کیلیفورنیا کے قوانین کےتحت دفتری اوقات میں شمار نہیں ہوتا۔اس کے بعد مُدَّعِیان نے نویں سرکٹ کورٹ برائے اپیلز سے رابطہ کیا تھا جس نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ وہ اس معاملے میں ریاستی قوانین کا معاملہ حل کرے۔اس کے بعد ریاست کی عدالت عالیہ نے جمعرات کو فیصلہ دیا جس میں اس نے ایپل کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ ملازمین تلاشی سے بچنے کے لیے اپنے ساتھ بستے یا آئی فونز لانا چھوڑ دیں۔
کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ نے مرکزی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تلاشی سے بچنے کے لیے ملازمین موبائل فون نہ لائیں کیونکہ موبائل فونز روزمرہ کی زندگی کا لازمی جز بن چکے ہیں۔
عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ایپل کے مضحکہ خیز اور بے ربط بیانات کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’ایپل کی جانب سے خود اپنے ملازمین کیلئے آئی فون کو غیر ضروری قرار دینا اس کے ان دعووں کے برعکس ہے جن میں وہ یہ کہتا ہے کہ آئی فون ہر انسان کی زندگی کا لازمی جز بن گیا ہے‘۔اس فیصلے پر ایپل کے نمائندوں کی طرف سے فوراً کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں عدالت میں آنے والا ایپل کیخلاف یہ تیسرا مقدمہ تھا، اس سے قبل کم سے کم تنخواہ اور ان اوقات کا تعین جن میں ایک ملازم ادارے کے ماتحت ہوگا، کے حوالے سے کیسز سنے جاچکے ہیں۔