زینب الرٹ بل ترامیم کے ساتھ منظور

اسلام آباد( ویب ڈیسک )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا اور اب اسے منظوری کے لیے 2 مارچ کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا۔خیال رہے کہ 10 جنوری 2020 کو قومی اسمبلی سے بھی زینب الرٹ بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق مصطفیٰ نواز کھوکھر کے مطابق بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی جائیں گی جو تین مہینے کے اندر بچوں سے زیادتی کے کیسز کا فیصلہ سنائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بل میں پولیس کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بچے کی گمشدگی کی ایف آئی آر فوری طور پر درج کرے جب کہ ایف آئی آر درج نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ پولیس افسر کو 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔زینب بل الرٹ کے مطابق وزیراعظم کی طرف سے گمشدہ اور لاپتہ بچوں کے حوالے سے ایک ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا جائے گا، ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ افسران اور اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔ڈائریکٹوریٹ جنرل زینب الرٹ، رسپانس و ریکوری بچوں کے حوالے سے مانیٹرنگ کا کام کرے گا اور ہیلپ لائن 1099 کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔ زینب الرٹ بل، ریسپانس اینڈ ریکوری بل کی نگرانی وفاقی چائلڈ پروٹیکشن ایڈوائزری بورڈ کرے گا، کسی بھی بچے کے لاپتہ ہونے کی صورت میں پی ٹی اے اتھارٹی فون پر بچے کے بارے میں پیغامات بھیجے گی اور بچہ گم ہونے کی صورت میں دو گھنٹے کے اندر مقدمہ درج ہو گا۔بل کے متن کے مطابق تین ماہ کے اندر ٹرائل مکمل کر کے ملزم کو سزا دی جائے گی اور مقدمے کے اندراج میں تاخیر کرنے والے کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 182 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔قومی اسمبلی سے منظور بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچے کے اغوا کار کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔