دہلی میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ،9 افراد ہلاک ،100 سے زائد زخمی

نئی دہلی(ویب ڈیسک )متنازعہ شہریت ترمیمی قانون(سی اےاے)کے خلاف اور حمایت میں سڑک پر نکلے لوگوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے دہلی میں حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ خصوصی طور پر شمال مشرقی دہلی میں تشدد کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ تشدد میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے جن میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ جبکہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ شمال مشرقی دہلی میں ایک ماہ (24 فروری تا 24 مارچ) کے لئے دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے،اس کے باوجود تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے جن کی وجہ سے نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ ان حالات کے مدنظردہلی میں متاثرہ علاقہ کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اسکول بند رہیںاور ان اسکولوں میں ہونےوالے بورڈ کےامتحانات کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے،جبکہ دہلی کے پانچ میٹرو اسٹیشن بھی بند ہیں۔یہ ہنگامہ 22 فروری کی رات سے اس وقت شروع ہوا جب بھیم آرمی کی بھارت بند کی اپیل پر خواتین جعفرآبادمیٹرواسٹیشن کے نیچے سے گزر رہی سڑک پر سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے بیٹھ گئیں اوراگلے دن بی جے پی کے کپل مشرا نے ان کے خلاف سی اے اے کے حامیوں کوجمع کیا اورسڑک خالی کروانے کامطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے مرکزی حکومت کو ان حالات کے لیے ذمہ دار قرار دیا ہے اور اسے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیرداخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ امیت شاہ نے ہی متنازعہ قانون کا بل پیش کیا تھا۔ جس کے بعد پورے بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔