“دنیا گول نہیں” ثابت کرنے کے چکر میں امریکی خلانوردکا دنیا سے ہی بستر گول

لاہور( ویب ڈیسک )دنیا میں سر پھرے انسانوں کی کمی نہیں جو اپنے نظریات ثابت کرنے کے چکر میں جان کو بھی دائو پر لگانے سے نہیں ہچکچاتے۔کیلیفورنیا میںایک ایسا ہی سر پھرا خلانورد نےیہ ثابت کرنے کے لئے کہ” دنیا گول نہیں” ہے ، اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔اپنے خیال کو ثابت کرنے کے لئے ، امریکی خلانورد نے ہفتہ کے روز خود ساختہ راکٹ میں اڑان بھری تھی لیکن جیسے ہی اس کا راکٹ اوپر گیا ، یہ دھماکے سے پھٹا اور اس کا سارا ملبہ نیچے پھیل گیا۔ اس خلاباز کا نام مائک ہیوز ہے ، جس”میڈ(پاگل) مائیک ہیوز” بھی کہا جاتا ہے۔
سائنس چینل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس واقعے کے بارے میں معلومات دیں کہ ، “ہیوز ہمیشہ ہی خلا میں لانچ کرنا چاہتا تھا۔”ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی راکٹ اوپر اٹھا تو اس کا پیراشوٹ پھٹ پڑا۔ بھاپ اڑاتا ہوا راکٹ یقینا اوپر گیا ، لیکن یہ صرف 10 سیکنڈ میں زمین پر گر گیا۔ ویڈیو میں صحرا میں گرنے والے راکٹ سے ایک عجیب سی آواز سنی جا سکتی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ راکٹ لانچنگ کے دوران ایک نچلی سطح پر گر کر تباہ ہوا جس کی وجہ سے اس کے پیراشوٹ میں دراڑ پڑ گئی۔ یہ حادثہ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ، ہیوز نے ایک ویڈیو میں کہا تھا کہ وہ بیرونی خلا کے آخری کنارے تک جانا چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ کیا دنیا گول ہے یا نہیں۔ ہیوز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ لوگوں کو باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ ہر وہ کام کرسکتے ہیں جو ان کی زندگی میں غیر معمولی ہے۔ ہیوز نے کہا ، “میری کہانی واقعی یقین سے بالاتر ہے۔”
واضح رہے ہیوز ایک لیموزین ڈرائیور بھی تھا جس نےطویل ترین لموزین ریمپ جمپ کے لئے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔ 2002 میں ، اس نے اپنی لیموزین کار سے 103 فٹ (31 میٹر) کی اونچائی سے چھلانگ لگائی۔یہ پہلا موقع نہیں تھا جب ہیوز نے خلائی سفر کا آغاز کیا تھا۔ 2018 میں ، اس نے ہوا میں 1875 فٹ (570 میٹر) اڑان بھری۔ اس نے اپنے راکٹ میں دو پیراشوٹ رکھے تھے ، لیکن نیچے آتے وقت وہ کام نہ آسکے اور اس کی گردن کو اس حادثے میں شدید چوٹیں آئیں۔ اس کے بعد اس کا راکٹ کیلیفورنیا کے صحرا موجاوی میں گر گیا۔ ہیوز کو معلوم تھا کہ اس طرح کی لانچنگ سے ان کی جان کو خطرہ تھا ، لیکن اس کے باوجود اس نے اپنا تجربہ جاری رکھا۔