ٹڈی دل کے خلاف جنگ، چین پاکستان میں ڈک آرمی بھیجنے کو تیار

لاہور( نہال ممتاز) چین ہمیشہ سے ہی پاکستان کا دفاعی مددگار رہا ہے ،اب ٹڈیوں کے حملے سے بچائو میں بھی چین پاکستان کی مدد کو تیار ہے۔پاکستان اس وقت خوفناک ٹڈی دل حملے سے دوچار ہے اور چین اس منصوبے میں پاکستان کی مدد کرنے کے لئے ایک لاکھ بطخوں کی فوج اس کے پاس بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ چین کے اخبار ننگبو ایوننگ نیوز کے مطابق ، بطخوں کی یہ فوج چین کے مشرقی صوبے ژجیانگ سے بھیجی جائے گی۔ اس سے قبل چین نے ماہرین کی ایک ٹیم کو صورتحال کو سمجھنے اور پاکستان کو بطخوں کی آرمی کی تربیت دینے کرنے کے لئے بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ ٹڈیوں کا ایسا ہی حملہ دو دہائیاں قبل چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں ہوا تھا اور پھر چین نے ان سے لڑنے کے لئے بطخیں تعینات کیں کیوں کہ ان میں ایک ہی دن میں متعدد ٹڈیاں کھانے کی صلاحیت موجود تھی۔ بطخوںکے استعمال سے چین کو ٹڈیوں کے خلاف کامیابی ملی۔اخبار نے جیانگ صوبائی انسٹی ٹیوٹ آف زرعی ٹیکنالوجی کے محقق لو لیجی کے حوالے سے بتایا ہے کہ کیڑے مار ادویات کے بجائے بطخوں کے استعمال سے اخراجات کم ہوجاتے ہیں اور ماحولیاتی نقصان کو بھی کم کیا جاتا ہے۔
لو نے یہ بھی کہا کہ بطخ دوسرے گھریلو پرندوں کے مقابلے میں یہ کام زیادہ موثر انداز میں کرسکتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ، “بطخ گروہوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے مرغیوں کے مقابلہ میں ان کی دیکھ بھال میں آسانی ہوتی ہے۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک بطخ ایک دن میں 200 سے زیادہ ٹڈیوں کو کھا سکتی ہے اور ان میں لڑائی کی صلاحیت تین گنا زیادہ ہے۔ ان میں سردی سے لڑنے کی زبردست صلاحیت بھی ہے۔جبکہ ایک مرغی ایک دن میں 70 ٹڈیاں کھا سکتی ہے،اس کے علاوہ ، بطخ مینڈک اور پرندوں کے مقابلے میں زیادہ نظم و ضبط رکھتے ہیں ، جو کہ ٹڈیوں کے فطری دشمن ہیں۔بطخیں ٹڈیوں کے پورے کنبے کو تباہ کردیتی ہیں۔ٹڈی دل حملہ پاکستان پر 2019 میں ہوا تھا اور اسی وجہ سے ملک میں روئی کی فصل برباد ہوگئی تھی۔ اب گندم کے کھیت خطرے میں ہیں۔ پاکستان نے ٹڈی سل حملہ کے سبب قومی زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ٹڈیوں کی جماعتیں بڑے پیمانے پر فصلوں کو تباہ کررہی ہیں ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹڈیوں کے حملے سے نمٹنے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دے دی ہے۔