29 فروری 2020ء: 4 سال بعد ممتاز قادری کی پہلی برسی

تحریر:نہال ممتاز
آج نئی ہزاری کی دوسری دہائی کا پہلا لیپ سال ہے جسے سیلیبریٹ کرتے ہوئے گوگل نے 29 فروری کا ڈوڈل بنایا ہے۔یہ دن 4 سال بعد آتا ہے اور کئی حوالوں سے اسے تاریخ ساز دن بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وہی دن ہے جب پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے ملک کا پہلا آئین منظور کیا تھا۔ اسی دن 1940 ء میں “گون وِد دِی وِنڈ ” نامی فلم نے عالم سینما میں تاریخ رقم کرتے ہوئے 8 آسکر ایوارڈز حاصل کیے جبکہ تاریخ ساز لمحہ یہ رہا کہ اس فلم میں کام کرنے والی ہیٹی میک ڈینئل آسکر جیتنے والی پہلی سیاہ فام اداکارہ بنیں۔29 فروری 2016کو ہی شرمین عبید نے اپنی دستاویزی فلم پر آسکر جیتا تھا جو کسی بھی پاکستان فلم کے لیے پہلا آسکر تھا۔جبکہ آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں19 سال سے جاری افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے 2 متحارب فریقین امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط نے بھی تاریخ رقم کر دی ہے۔لیکن یہ دن ایک ایسی شخصیت کے حوالے سے بھی یادگار ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا نام تاریخ میں امر ہو گیا اور رہتی دنیا تک اسے یاد رکھا جائے گا مگر صد افسوس آج 4 سال بعد اس ہستی کی پہلی باقاعدہ برسی پر کسی کو اس کی یاد ہی نہیں آئی۔عوام کی یاد داشت کو توویسے بھی ارباب اختیار کمزور قرار دیتے آئے ہیں لیکن خواص کی یادداشت کو کیا ہوا ؟
چلیں ،اگر کسی کو یاد نہیں آرہا تو انہیں یاد دلاتے چلیں کہ آج ناموس رسالت میں اپنی جان قربان کر دینے والے ممتاز قادری کا 4 برس بعد پہلا باقاعدہ یوم شہادت ہے۔

ممتاز قادری شہید کا آخری دیدار

29 فروری 2016 کے دن پنجاب پولیس کے کمانڈو یونٹ ایلیٹ فورس کے سپاہی ملک ممتاز حسین قادری اعوان کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ناموس رسالت کے نام پر قتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ ممتاز قادری گمورنر پنجاب سلمان تاثیر کے سرکاری محافظ ہوتےہوئے بھی ان کے قا تل بن بیٹھے۔ گورنر کی جانب سے گستاخی مذہب کے الزام میں گرفتارآ سیہ مسیح کی حمایت اور قانون توہین رسالت پر تنقید اور غیر محتاط الفاظ کے چنائو اس قتل کے اہم محرکات بنے۔

ممتاز قادری گرفتاری کے بعد
سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر آسیہ مسیح کو دلاسہ دیتے ہوئے

اس قتل کے بعد دو طبقات میں بٹے لوگوں میں مذہبی عدم برداشت ،کون درست ،کون غلط ،کون گستاخ،اقلیتوں کے حقوق اور حدود جیسے موضوعات کی نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہوگئی جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا۔ ممتاز قادری کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 2011ء میں دو مرتبہ موت کی سزا سنائی ۔ سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فروری 2015ء میں اس مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات تو خارج کر دی تھیں تاہم سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اسی فیصلے کو دسمبر 2015ء میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا، حتیٰ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر صاحب نے بھی اس ناموس رسالت کے محافظ کے والدین اور وکلاء کی طرف سے کی گئی اپیل کو مسترد کردیا اور جناب ملک ممتاز حسین قادری کو سزا ئے موت دے دی گئی۔ عشق رسول ﷺ م میں اپنی جان لٹا دینے والے اس جانثار کی شہادت کو اگرچہ چار برس بیت گئے ہیں لیکن لیپ سال کے 4 کے چکر میں اسے پہلی برسی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ممتاز قادری شہید کی آخری آرام گاہ

شاید پھانسی دینے والوں نے سوچ سمجھ کر اس تاریخ کا انتخاب کیا ہو گا کہ عوام کی یادداشت کمزور ہوتی ہے بھلا کون اس دن کو یاد رکھ پائے گا