طواف کعبہ تاریخ میں کب کب رُکا؟


کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سعودی حکام نے خانہ کعبہ کو صفائی کی غرض سے مکمل طور پر خالی کرا لیا ہے اور مطاف میں طواف کا عمل روک دیا گیا ہے۔یہ خبر امت مسلمہ پر نہایت گراں گزری اور لوگوں کی اکثریت جہاں اسے قیامت کی نشانی سمجھ رہی ہے وہیں تاریخ سے انجان لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ شاید تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ طواف کعبہ رکا ہے۔جبکہ ایسا نہیں ہے۔ماضی بعید میں بھی کئی بار کئی وجوہات کی بنا پر طواف کعبہ کو روکنا پڑا تھااور ماضی قریب میں بھی 40 برس قبل طواف کعبہ 14 دن تک رکا رہا۔۔ظہور اسلام کے بعد کئی بار تعمیر کعبہ کے دوران طواف اور عبادت کا عمل معطل رہا ۔خانہ کعبہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ سے لے کرگزشتہ صدی تک خانہ کعبہ کی کئی بار تعمیر کی گئی۔کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئے سرے سے بھرا گیا تھا۔
چند عظیم سانحات کی وجہ سے بھی طواف کعبہ رکا جن میں آخری مرتبہ محض چالیس برس قبل طواف کعبہ کو روکنے کا افسوس ناک واقعہ بھی شامل ہے۔آئیے ان کی تفصیل جانتے ہیں۔
نو امیہ کے حکمراں یزید بن معاویہ کو تاریخ میں ایک ظالم و جابر اور دشمن اہل بیت فرمانروا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس نے نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اوران کے اہل بیت کا خون بہایا تھا اور اپنے اس جرم کے سبب تاقیامت وہ اہل ایمان کی نفرت کا مرکز بنا رہے گا مگر اسی کے ساتھ اس کے دامن پر ایک دوسرا داغ بھی ہے اور وہ ہے مکہ اور مدینہ کی حرمت کو پامال کرنا۔ اسی کے عہد حکومت میں اللہ کے مقدس گھر کعبہ پر پتھروں کی بارش کی گئی جس سے کعبہ کی دیواریں مخدوش ہوگئی۔
تاریخ ابن خلدون میں ہے کہ اموی جرنیل حصین بن نمیر نے کوہ ابو قبیس اور کوہ قیعقعان پر منجنیقین نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری کی۔ سنگ باری اتنی شدید تھی کہ کوئی شخص طواف نہ کرسکا۔ اس حملے میں خانہ کعبہ کی چھت اور پردے بھی جل گئے ۔ لڑائی جاری تھی کہ یزید مر گیا۔ اسکی موت کی خبر جب عبداللہ بن زبیر کو ملی توانہوںنے پکار کر کہا۔ ارے کم بختو اے عدواللہ!اب تم کیوں لڑ رہے ہو تمہارا گمراہ سردار تو مر گیا۔یہ واقعہ ۶۴ ؁ھ کا ہے۔ حالات معمول پر آگئے تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کرائی۔
بنو امیہ کے عہد میں ہی خانہ کعبہ پر دوبارہ حملہ کیا گیااور دوسری بار نہ صرف کعبہ کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ حدودحرم میں قتل و غارت گری بھی کی گئی۔اوپر مذکور واقعے کے ٹھیک آٹھ سال بعد ۷۲ھ ؁ میں جب کہ عبدالملک بن مروان حکمراں تھا او ر حجاز مقد س میں حسب سابق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی ایک لشکر حجاج بن یوسف کی قیادت میں مکہ پر حملہ آور ہوا۔ عبدالملک نے کئی لوگوں کو مکہ پر حملہ کرنے اور حجاز پر قبضہ کرنے کو کہا تھا مگر سب نے حرم شریف کو جنگ و جدال کا مرکز بنانے سے انکار کردیا۔ حجاج بن یوسف جو کہ انتہائی ظالم و جابر فطرت کا انسان تھا اور جس کے دامن پر بہت سے صحابہ و اہل ا للہ کے خون کے چھینٹے ہیں اس حکم کو قبول کرلیا اور مکہ پر حملہ آور ہوگیا۔عین رمضان المبارک کے مہینے میں جب کہ دوسرے خطوں سے بھی یہاں مسلمان عبادت کے لئے آجاتے ہیں، حجاج نے محاصرہ کرلیا اور سنگ باری شروع کردی۔ پتھروں کی بارش اس قدر زبردست تھی کہ لوگوں کا اپنے سر بچانا مشکل ہوگیا اور وہ مکہ چھوڑ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ یہاں لوگوں کے پاس کھانے پینے کے لئے کچھ نہ رہا اور وہ دانے دانے کو ترسنے لگے۔سنگ باری کے دوران ایک بڑا پتھر خانہ کعبہ کی چھت پر آگراجس سے کعبہ کی چھت گر گئی۔اسی وقت زبردست آسمانی بجلی کڑکی جس سے لوگوں کے دل لرز اٹھے اور خوف کا ماحول بن گیا۔ اس زور دار آواز کے صدمے سے حجاج کی فوج کے کئی لوگوں کی موت بھی ہوگئی۔ تین دن تک مکہ اور آس پاس کے علاقوں میں اندھیرا چھایا رہا اور آسمان سیاہ ہوگیا۔ مگر حجاج نے اپنے لوگوں کو بھروسہ دلایا کہ بجلی اور بادل ایک فطری معاملہ ہے اس سے خوفزدہ ہونے کے ضرورت نہیں، اس نے خود اپنے ہاتھوں سے منجنیق میں پتھر رکھنا شروع کیا تب جاکر فوجیوں کی جان میں جان آئی اور آگے بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ احاطۂ خانہ کعبہ میں نماز پڑھتے تھے اور ان کے اردگرد پتھر آکر گرتے تھے۔
آخرکار وہ اور ان کے ساتھی اس لڑائی میں شہید ہوئے اور مکہ معظمہ پر حجاج بن یوسف کا قبضہ ہوگیا۔ ایک روایت کے مطابق حضرت عبداللہ بن زبیر کا سر کاٹ کر اسے کعبہ کے پرنالے میں لٹکادیا گیا اور لاش کو سولی پر لٹکادیا۔ اس نے حرم شریف میں داخل ہوکر دیکھا کہ ہر طرف پتھر بکھرے ہیں اور خون کے دھبے پھیلے ہوئے ہیں تو فرش کو دھلوایا اور کعبہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا۔
929ء میںقرامطہ فرقے کے پیروکار ابو طاہر سلیمان بن الحسن نے ایک لشکر جرار کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی اور حرم شریف میں داخل ہو کر قتل عام شروع کر دیا۔ ابو طاہر قرامطہ فرقے کے بانی”ابو سعید کا بھائی تھا۔اس قتل عام میں مکہ شہر اور گرد ونواح میں تیس ہزار افرادشہید کئے گئے ۔جن میں طواف کرنیوالے سات سو افراد بھی شامل تھے۔بحرین کے شہر ہجر سے آنیوالے قرامطہ حجر اسود نکال کر ساتھ لے گئے۔ تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ بیس سال سے زائد عرصے تک کعبہ کا طواف حجر اسود کے بغیر ہوا۔ابو طاہر نے مکہ کا راستہ بھی بند کرنے کی کوشش کی تا کہ عازمین حج وہاں جانے کی بجائے ہجر آئیں لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔یہ واقعہ ۳۱۸ھ ؁ کا ہے جب کہ بنو عباس کی خلافت کا زمانہ تھا اور مقتدربااللہ خلیفہ تھا۔اسی کے ساتھ مصر میں فاطمی سلطنت کا بھی آغاز ہوچکا تھا۔
کعبہ کی حالیہ تاریخ میں بھی ایک المناک سانحہ پیش آیا۔ کعبہ شریف پر مرتدین کا قبضہ ہو جانے کی وجہ سے چودہ دن تک طواف معطل رہا اس عرصے میں حرم کعبہ کے در و دیوار اذان اور جماعت کی سعادت سے محروم رہے۔ یکم محرم الحرام مطابق 20نومبر 1979 منگل کی صبح امام حرم شیخ عبد اللہ بن سبیل نے نماز فجر کا سلام پھیرا ہی تھا کہ چند آدمیوں نے امام صاحب کو گھیرے میں لے لیا ان میں سے کچھ لائوڈ سپیکر پر قابض ہو گئے اس وقت حرم شریف میں ایک لاکھ کے قریب نمازی موجود تھے۔ان حملہ آوروں کا سرغنہ 27سالہ محمد بن عبد اللہ قحطانی تھا جس نے چار سال تک مکہ یونیورسٹی میں اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کا دست راست جہیمان بن سیف العتیبہ تھا۔ ان لوگوں نے بڑی باریک بینی سے پلاننگ کر کے جنازوں کا بہروپ بنا کر چارپائیوں کے ذریعے اسلحہ کی بڑی مقدار تہہ خانوںمیںجمع کر لی تھی۔ جب تمام تیاریاں مکمل ہو گئیں تو اچانک حرم کے تمام دروازے بند کر کے ان پر اپنے مسلح افراد کھڑے کر دئیے۔ایک آدمی نے عربی میں اعلان کیا کہ مہدی موعود جس کا نام محمد بن عبدا للہ ہے آ چکا ہے۔نام نہاد مہدی نے بھی مائیک پر اعلان کیا کہ میں نئی صدی کا مہدی ہوں میرے ہاتھ پر سب لوگ بیعت کرینگے۔اس گمراہ ٹولے نے مقام ابراہیم کے پاس جا کر گولیوں اور سنگینوں کے سائے میں لوگوں کو دھمکاتے ہوئے بیعت شروع کروا دی۔
سعودی فرمانروا شاہ خالد نے 32علماء پر مشتمل سپریم کونسل کا اجلاس فوری طور پر طلب کر لیا۔ علماء کرام نے قرآن ا ورحدیث کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ مسلح گمراہ افراد کیخلاف کارروائی شریعت کے عین مطابق ہے۔ اس فتوے کی روشنی میں بیت اللہ کے تقدس کے پیش نظر بھاری اسلحہ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا۔ مرتدین کا مکمل صفایا کرنے کے بعد 7دسمبر1979 کو دوبارہ حرم شریف کو عبادت کیلئے کھولا گیا۔ اس لڑائی میں 75باغی مارے گئے اورنیشنل گارڈز کے60 فوجی شہید ہوئے۔ چار پاکستانیوں سمیت 26حاجی شہید اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ مرتدین کی بڑی تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔سزائے موت پانے والے مرتدین میں 41سعودی عرب، 10مصر، 6جنوبی یمن،3کویت سے جبکہ عراق ، سوڈان اور شمالی یمن کا ایک ایک مرتد شامل تھا۔