ویب ڈیسک ۔ سوشل میڈیا سے شہرت پانے والے مشہور عالم دین مولانا ناصر مدنی کو اغوا کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ گذشتہ روز لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مولانا ناصر مدنی نے انکشاف کیا کہ انہیں اغوا کیا گیا اور برہنہ کر کے پائیپوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایک ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مولانا ناصر مدنی نے کہا کہ انہیں واٹس اپ پر کال کے ذریعے رابطہ کیا گیا اور کہا کہ میں آپ کا چاہنے والا ہوں اور میں چاہتا ہوں کے آپ میرے ساتھ میرے ہوٹل میں پروگرام کریں ۔ جس پرانہوں نے جواب دیا کہ   پابندی لگی  ہے اس لیے نہیں آ سکتا جس پر اس شخص نے کہا دعا ہی کر جائیں کیونکہ میری والدہ کی بڑی خواہش ہے۔

انکا کہنا تھا کہ میں کھاریاں چلا گیا وہاں سے ایک اور دوست مجھے اپنے ڈیرے پر لے گیا، جہاں ہم دس پندرہ منٹ بیٹھے ہی تھے کہ بہت سے مسلح افراد آ گئے جنہوں نے ہم پر اسلحہ تان لیا اور مجھے الگ کمرے میں لے گئے جبکہ میری دونوں ملازموں کو بھی الگ الگ کمروں میں رکھا۔

ناصر مدنی نے انکشاف کیا کہ مسلح افراد نے انکے سارے کپڑے اتروائے اور انہیں پائپوں کے ذریعے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔تشدد کے بعد انہوں نے ان سے ایک کاغذ پر دستخط کروائے جس کی تحریر انہیں نہیں پڑھنے دی گئی ۔ اور انہوں نے کیمرے کے سامنے کہلوایا کہ ناصر مدنی نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے اس لیے انہیں مارا گیا ہے۔