مریض کی بے احتیاطی، اٹلی اور جنوبی کوریا میں کرونا پھیلنے کا سبب

کراچی(ویب ڈیسک)دیکھئے کیسے ایک مریض کی بے احتیاطی نے اٹلی اور جنوبی کوریا میں کرونا وائرس پھیلانے میں کردار ادا کیا؟

شاہزیب خانزادہ کے مطابق اٹلی میں کرونا وائرس کے ایک مریض نے 13 مزید افراد کو متاثر کیا۔ پہلے اس شخص کی اہلیہ متاثر ہوئی، پھر وہ شخص اپنے ایک دوست کیساتھ باہر گیا تو اسکا دوست بھی کرونا سے متاثر ہوا، اسکے والد ایک بار چلاتے تھے اس وائرس سے مزید تین لوگ متاثر ہوگئے۔

پھر جب وہ شخص ہسپتال گیا تو مزید 8 لوگ متاثر ہوگئے جس میں ڈاکٹرز اورسٹاف دونوں شامل تھے۔اس وقت چھ کروڑ والی آبادی کے اٹلی کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں لاک ڈاؤن غیر معینہ مدت کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔ اٹلی نے اس فیصلےمیں بہت تاخیر کی ہے جس کی وجہ سے اٹلی میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 36 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

جنوبی کوریا میں کرونا کا پہلا کیس 20 جنوری کو سامنے آیا۔ 4 ہفتوں کے دوران صرف 30 لوگ متاثر ہوئے لیکن جب 31 واں کیس سامنے آیا تو اس نے جنوبی کوریا کی صورتحال بدل کر رکھ دی۔31 ویں مریض نے کرونا وائرس سینکڑوں افراد میں منتقل کیا۔ 15 فروری کو ڈاکٹرز نے اس مریض کو کرونا ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا لیکن وہ اپنے دوستوں کیساتھ ہوٹل میں کھانا کھانے چلی گئی۔

6 فروری سے 17 فروری تک یہ خاتون دو بار ہسپتال اور چرچ گئیں ۔ 18 فروری کو اس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور اسے قرنطینہ کردیا گیا لیکن اس دوران وہ وائرس بہت زیادہ پھیلا چکی تھیں اور چند ہی دنوں میں وہ خاتون جس چرچ میں جاتی تھیں وہاں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے لگے۔

جنوبی کوریا انتظامیہ نے چرچ میں آنیوالے افراد کی فہرست تیار کی تو اس میں 1200 افراد میں کرونا کی علامات پائی گئیں۔ متاثرہ خاتون جس ہسپتال گئیں وہاں آس پاس کے علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے کئی کیسز سامنے آئے۔

صرف ایک خاتون کی بے احتیاطی۔۔ اگر وہ پہلے دن کھانا کھانے جانے کی بجائے ٹیسٹ کرانے چلی جاتی تو سینکڑوں افراد اس وبا سے بچ جاتے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ساڑھے 8 ہزار سے زائد ہے۔