اسلام آباد ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ملک میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر آج ایک مرتبہ پھر قوم سے اہم خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کرفیو یا لاک ڈاوٴن کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے عوام کو خود پر کنٹرول کرنے کی تلقین کی۔

تفصیلات کے مطابق قوم سے اپنے ایک اہم خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ابھی چین یا اٹلی جیسے حالات نہیں ہیں لہذا ملک میں فوری طور مکمل لاک ڈاوٴن کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر لاک ڈاوٴن کے حوالے سے کافی دباوٴ ہے لیکن میں ابھی لاک ڈاوٴن کی طرف نہیں جا رہا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاوٴن کرنے سے پہلے اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر نظر رکھنا پڑے گی۔ لاک ڈاوٴن کرنے سے میرے ملک کا رکشہ والا، چھابڑی والا اور دیہاڑی دار سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چین نے لاک ڈاوٴن کیا کیوں کہ وہ دنیا کو دوسرا امیر ترین ملک ہے پاکستان کے پاس ایسے وسائل نہیں کہ وہ دوہفتے کے لئے عوام کو راشن اور دیگر سہولیات میسر کر سکے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ہم نے اسکول، یونیورسٹیاں اور شاپنگ سینٹرز بند کردیے ہیں تاہم عوام کو خود اپنے آپ کو لاک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کھانسی، نزلہ یا زکام ہے تو خود کو آئیسولیشن میں رکھیں، فلو ہونے پر اسپتال جانے کے بجائے گھر میں احتیاط کریں، احتیاط نہ کرنے سے بیماری تیزی سے پھیلے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس طرح چین نے کورونا پر قابو پایا اس طرح ہم بھی کورونا پر قابو پالیں گے، کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ افراتفری ہے جب کہ لوگوں کوکھانے پینے کی اشیا ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں، ملک میں اناج کی کوئی کمی نہیں۔