کرونا سے جنگ اور پاکستان کے ’گمشدہ‘ ارب پتی

پاکستان یا شاید پوری دنیا اس وقت تاریخ انسانی کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے تمام ممالک امیر ہوں یا غریب، طاقتور ہوں کمزور سب ہی کرونا وائرس نامی موذی مریض میں مبتلا ہیں اور اپنا بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

دنیا کی سب بڑی طاقت امریکہ میں اس وقت 84ہزار سے زائد کرونا کے مریض ہیں اس کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر آچکا ہے۔ اٹلی جس کا نظام صحت دنیا میں سب سے طاقتور اور مضبوط مانا جاتا تھا آج وہاں ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف کے اپنے چہروں کوڈھانپنے کے لئے ماسکز کی کمی اور وہ استعمال شدہ ماسکز کو دھو کر دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

پوری دنیا پر حکومت کرنے والا تخت برطانیہ بھی کرونا میں مبتلا ہو چکا ہے۔ برطانیہ کا ولی عہد شہزادہ چارلس بھی کرونا وائس کا شکار ہو چکا ہے۔ غرض یہ کہ کھیل کے میدان ہوں یا فلمی دنیا کے نامور ستارے کوئی نہ کوئی کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکا ہے۔

اس مشکل وقت میں دنیا کے امیر ترین افراد نہ صرف اپنے ممالک بلکہ غریب ملکوں کی مدد کو بھی آگے آ چکے ہیں۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور چائینز ای کامرس کنگ علی بابا کے بانی جیک ما نے نہ صرف اپنے اپنے ممالک کو طبی امداد فراہم کی بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کے تمام ممالک میں بھی امدادی سامان پہنچا کر انسانیت کی خدمت کرنا شروع کر دی ہے۔

پڑوسی ملک بھارت میں کرونا کی وبا پھیلتے ہیں وہاں کے امیر ترین افراد اپنی حکومت اور عوام کی خدمت کو نکل پڑے ہیں۔ مکش امبانی جو دنیا کا امیر ترین آدمی ہے نے اپنی حکومت کو کرونا سے لڑنے کے لئے 50کروڑ بھارتی روپے دے دیئے ہیں۔ ٹاٹا گروپ نے بھی بھارتی حکومت خطیر رقم دے دی۔ بھارتی کرکٹ سٹار سچن ٹنڈولکر نے 50لاکھ غریبوں میں بانٹنے کا اعلان کر دیا۔ بھارتی حکومت کے جانب سے کرونا سے لڑنے کے لئے 50 ڈاکٹروں کی ضرورت کا اعلان کیا گیا اور وہاں 250ڈاکٹرز اپنی خدمات دینے پہنچ گئے۔

اب آ جائیں وطن عزیز کی طرف جہاں کرونا وائرس کی وبا پھوٹی تو یہاں بسنے والے امیر ترین افراد جو کئی دہائیوں سے یہاں کی عوام کا خون نچوڑ رہے تھے ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوجاتے ہیں۔ بحریہ ٹاوٴن کے مالک مالک ریاض جو کے پاکستانی رابن ہڈ ہوا کرتے تھے اس سارے سین سے غائب ہیں۔ پاکستان کے امیر ترین شخص میاں محمد منشاء صاحب تو جیسے اس ملک میں رہتے ہی نہیں، پاکستان میں پی سی ہوٹل چین کے مالک ہشوانی صاحب بھی لاپتہ ہیں۔

جہانگیر ترین جو الیکشن کے دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ کے لئے اپنے جہاز کو سی ڈی 70موٹر سائیکل کی طرح استعمال کرتے تھے اب عوام کی خدمت کا اصل وقت آیا ہے تو کرونا سے بچنے کے لئے شاید انڈر گراوٴنڈ ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں جو یہاں سے ماہانہ اربوں روپے کماتی ہیں اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے بیٹھی ہیں۔

پاکستانی سیاستدان خاندان جن کی سات براعظموں میں پھیلی جائیدادوں کا حساب خود ان کو نہیں پتہ ہو گا اپنی تجوریوں پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں۔ شریف خاندان، بھٹو اور زرداری فیملی، چوہدری برادران اور ان جیسے کئی سیاسی خاندان جو کئی برسوں تک حکومت کا حصہ رہے یا ہیں ان حالات میں صرف سیاست کر رہے ہیں اورعوامی خدمت کا صرف بھاشن دیتے رہتے ہیں۔

پاکستانی میڈیا گروپس جو ہر وقت حکومت کو کوستے رہتے ہیں اربوں کا کاروبار کرنے کے باوجود ان کا زور صرف اور صرف حکومتی امداد حاصل کرنے پر لگا ہوتا ہے۔ پاکستان میں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر کوئی اس سخت ترین وقت میں بھی صرف منافع خوری انتظار میں ہے اور بغیر کسی حکومتی ’فیور‘ کے عوام کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔

کرونا وائرس کے خلاف جنگ اکیلی حکومت یا عوام نہیں جیت سکتی، اس مشکل وقت میں ہم سب کو آگے بڑھنا ہو گا اور حکومت کے شانہ بشانہ لڑنا ہو گا۔ مخیر حضرات اور بڑے بڑے کاروباری گروپس کو اپنی جیبیں عوام کے لئے ہلکی کرنا ہوں گی ورنہ انہیں یاد رکھنا ہو گا کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی۔