اوزون کی تہہ میں پڑنے والا شگاف بھرنے لگا

واشنگٹن(ویب ڈیسک)دنیا کے گرد موجود اوزون کی تہہ میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے جسے ماہرین  نے زمین کے تحفظ کے حوالے سے نہایت اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ زمین کے گرد موجود اوزون کی تہہ زمین پر موجود جانداروں کو سورج کی الٹرا وائلٹ یا تابکار شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے باعث اوزون کی تہہ خطرے سے دوچار ہے اور اس تہہ میں پڑنے والے شگاف کے باعث سورج کی مضر شعاعیں براہ راست زمین پر پڑرہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اوزون کی تہہ متاثر ہونے کے باعث جہاں جلد کے سرطان اور سفید موتیا کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے وہیں عالمی درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز اور انٹارکٹیکا پر موجود برف بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔

برف پگھلنے کے باعث سطح سمندر بلند ہونے سے نہ صرف سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے بلکہ متعدد جزائر اور سمندر کنارے آباد شہروں کے زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ مسلسل بحال ہو رہی ہے اور اُس کے 100 فیصد ٹھیک ہو نے کا قوی امکان ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اوزون کی تہہ میں بہتری ماحولیات کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں اپنی نوعیت کی پہلی اور نادر کامیابی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین کے تحفظ اور زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے ہونے والے عالمی معاہدے ‘مونٹریال پروٹوکول’ پر عملدر آمد نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے تاہم دنیا کو ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوزون میں بہتری اس بات کی عکاس ہے کہ مربوط عالمی ایکشن سے ماحولیاتی تباہی کا عمل الٹایا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں صنعتی سرگرمیاں ٹھپ ہونے اور نقل و حرکت محدود ہونے کے باعث جہاں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں ماحول پر اس کے نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔