موت دے دو یا راشن ! بے بس خاتون سندھ سرکار پر برس پڑی

ویب ڈیسک۔ کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سندھ حکومت ایک ہفتہ قبل صوبہ سندھ میں مکمل لاک ڈاوٴن کر دیاتھا۔ لاک ڈاوٴن کے بعد سندھ سرکار نے وعدہ کیا تھا کہ دیہاڑی دار اور چھوٹے طبقے کے لئےلاک ڈاوٴن کے دوران راشن اور کھانے پینے کے لئے مناسب انتظامات کئے جائیں گے۔

تاہم اب محسوس ہو رہا ہے کہ یہ محض دعوے ہی تھے۔ آج سندھ میں کرفیو کے باعث حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں سندھ کی عوام کو کھانے کے لالے پڑ چکے ہیں۔ سندھ کے بالخصوص کراچی کے چھوٹے طبقے نے اب سندھ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ہے۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ بیوہ ہے اور ایک چھوٹی بچی کی ماں ہے۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ راشن اور کھانے پینے کا سامان ملے گا لیکن آج اتنے گزرنے کے باوجود کوئی مدد نہیں کی گئی۔ خاتون نے کہا کہ میری سندھ سرکاری سے گزارش ہے کہ ہمیں موت دے دو یا راشن۔

کراچی اور حیدر آباد میں کوئی جگہوں پر غریب طبقے کے لوگ احتجاج کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ہم کرونا سے نہ مرے تو بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔