خاتون کے اہلخانہ کی غلط بیانی نے پورے گائوں کو قرنطینہ میں تبدیل کر دیا

پشاور(ویب ڈیسک) کے پی کے کے علاقہ دیرپائیں میں چند روز قبل کرونا وائرس کی وجہ سے فوت ہونے والی خاتون 15 مارچ کو اپنے داماد اور بیٹی کے ساتھ عمرہ کرکے واپس آئی تھیں۔ اگلے روز گاؤں میں ان کے لیے ایک بڑی دعوت کا اہتمام کیا گیا، جس میں دو سو کے قریب افراد شریک ہوئے۔

اس دوران خاتون اور ان کے داماد، جو ایک سیاسی پارٹی کے سابق ناظم رہ چکے ہیں، سے ملنے بہت سے مہمان آئے۔

عمرے سے آنے کے کچھ دن بعد دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا اس خاتون کو دل کی تکلیف ہوئی، جس پر انہیں پشاور کے سرکاری ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا۔

ہسپتال میں انہیں امراض قلب کے مختص یونٹ میں داخل کروایا گیا۔ اس یونٹ کے ایک ڈاکٹر، جنہوں نے مذکورہ خاتون کا علاج کیا تھا نے میڈیا کو بتایا کہ جب مریضہ کو ہسپتال لایا گیا تو انہیں شک تھا کہ شاید وہ کرونا وائرس سے متاثر ہوں، لہٰذا انہوں نے خاتون سے سفری تفصیل لینے کے لیے تیمارداروں سے پوچھا کہ یہ بیرون ملک سے تو نہیں آئیں، لیکن رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ چونکہ رشتہ داروں کے مطابق ان کی ٹریول ہسٹری نہیں تھی، لہٰذا ہم نے ان کا ایک عام دل کے مریض کی طرح علاج شروع کیا لیکن جب ان کی حالت مزید خراب ہوئی تو ہم نے انہیں آئی سی یو منتقل کردیا۔

ڈاکٹر نے بتایا: ‘آئی سی یو منتقل ہونے کے بعد تیمارداروں نے بتایا کہ یہ خاتون 10 دن پہلے عمرہ کرکے آئی ہیں، تاہم وہ 25 مارچ کو ہسپتال میں انتقال کرگئیں۔ ٹریول ہسٹری کی وجہ سے ہسپتال عملے نے ان کے نمونے لیے تاکہ کرونا کا ٹیسٹ کیا جا سکے۔’

ڈاکٹر کے مطابق 27 مارچ کو خاتون کے ٹیسٹ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مریض کے تیمارداروں کی مبینہ غلط بیانی کی وجہ سے پانچ ڈاکٹروں سمیت نرسوں اور آئی سی یو وارڈ کے عملے کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے کیونکہ وہ مریضہ سے ملے بھی تھے اور ان کا علاج ایک عام مریض کی طرح کر رہے تھے۔ تاہم خوش قسمتی سے طبی عملے میں سے کسی کا ٹیسٹ پازیٹو نہیں آیا۔

متوفی خاتون کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد تقریباً 1200 نفوس پر مشتمل ان کے پورے گاؤں کو قرنطینہ قرار دیا گیا ہے جبکہ طبی عملے نے ٹیسٹس کے لیے اہل خانہ کے نمونے لے لیے ہیں۔

واضح رہے یہ خاتون ضلع دیر پائیں سے تھیں جن میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی، جبکہ ضلع دیر پائیں میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو افراد اس وائرس سے متاثرہو چکے ہیں۔

اس سے قبل مردان کی یونین کونسل منگا کے رہائشی سعادت بھی عمرہ کر کے واپس آئے تھے۔ انہوں نے گھر میں دعوت کا بندوبست کیا تھا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ بعدازاں ان کے انتقال کے بعد پورے علاقے کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا تھا اور اب تک اس علاقے سے 75 کے قریب کرونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔