کرونا کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ضروری ہے، عمران

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا کی روک تھام کے ساتھ ساتھ ہمیں لوگوں کو بھوک سے بچانا بھی یقینی بنانا ہے۔

کورونا وائرس کی تباہ کاریاں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور پاکستان میں اس عالمگیر وبا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں اب تک 40 اموات ہو چکی ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں 14 اپریل تک لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے جس کے باعث دیہاڑی دار، مزدور طبقہ اور غریب عوام کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس کی صورت حال کو خود مانیٹر کر رہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے گزشتہ روز نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ بھی کیا تھا جس میں انہیں کورونا کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی تھی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی موجود تھے

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز کنسٹرکشن کے شعبے کے لیے بڑی سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سال کے دوران جو بھی کنسٹرکشن کے شعبے میں سرمایہ لگائے گا اس سے پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔

اب وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں تعلیمی ادارے، مالز، شادی ہالز، ریستوران اور عوامی اجتماعات بندکر دیئے۔

عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے مضمرات روکنے کے لیے زرعی شعبے کو کھلا رکھا اور اب ملک میں تعمیراتی شعبے کو بھی کھول رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں غربت کی بڑی شرح کے باعث متوازن اقدامات کرنے ہیں، ہمیں کورونا کی روک تھام کے ساتھ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے عمل کو بھی یقینی بنانا ہے۔