کیا بھوک بھی جنسی امتیاز رکھتی ہے؟

وادی سوات میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے اور خاص کر غریب طبقہ شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ اس صورتحال میں وادی کی مخنث برادری بھی شدید کسمپرسی کے عالم میں روز و شب گزارنے پر مجبور ہے۔

نہ ہی کسی منتخب نمائندے نے ان ہیجڑوں کا حال پوچھا اور نا ہی کسی خیراتی تنظیم نے اِن کے ساتھ تعاون کیا۔ ان مخنث افراد کا واحد ذریعہ معاش ناچ گانا بھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے معطل ہے اور اس باعث اس غریب کمیونٹی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ وادی سوات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مخنث برادری ایک سو نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ان ہیجڑوں کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں اُن کی تعداد ایک سو دس سے تجاوز کر چکی ہیں۔

کیا بھوک بھی جنسی امتیاز رکھتی ہے؟

ماضی میں وادی سوات میں طالبان کے آنے کے بعد مقامی لوگوں نے انہیں اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چھوڑ دیا تھا۔ تاہم حالات بہتر ہوئے اور امن قائم ہوا تو اکثر و بیشتر ہیجڑوں کا روزگار بھی بحال ہو گیا۔ لیکن معاشرتی تنگ نظری، امتیازی سلوک اور دیگر لا تعداد مسائل ان کی زندگی کا بدستور حصہ ہیں۔

سوات میں مخنث افراد کی تنظیم کی صدر صبا نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”بچپن ہی سے ہمیں کسی نے قبول نہیں کیا، گھر سے بے دخل ہوئے تو معاشرے نے بھی ہمیں دھتکارہ، ہماری زندگی پہلے ہی سے تنہائی میں گزرتی رہی، صرف چند ساتھیوں کے ساتھ۔ لیکن اب جب پوری دنیا تنہائی کا شکار ہوئی ہے تو ہمیں اپنی دو وقت کی روٹی کی فکر ہے۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث ہمیں بھی ناچ گانا معطل کرنا پڑا ہے، ہمارے پاس جتنا راشن اور جتنے پیسے تھے، وہ ختم ہو چکے ہیں، دوپہر کو کھانا ملتا ہے اور رات کو بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں، حکومت اور خیراتی ادارے ہر کسی کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے ہمارے بارے میں نہیں پوچھا اور نا ہی کسی نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔”

لاک ڈاؤن اور مالی مسائل

سوات میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر لاک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ موجودہ حالات میں بے روزگاری کا سامنا کرنے والوں کے لیے بہت سی خیراتی تنظیمیں، سیاسی پارٹیاں، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندے میدان میں اُتر چکے ہیں اور اب تک ہزاروں خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے۔ تاہم مخنث کمیونٹی کا کہنا ہے کہ انہیں یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سوات کی رہائشی کرن نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”لاک ڈاؤن سے ہم معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہیں لیکن اس مصیبت کے وقت کسی نے بھی ہمیں یاد نہیں کیا، جس طرح ہمیں پہلے نظر انداز کیا گیا، اُسی طرح آج بھی ہمارے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے کئی خیراتی تنظیموں سے بھی رابطہ کیا مگر ابھی تک کسی جانب سے بھی کوئی سنوائی نہیں ہوئی، اگر حالات ایسے رہے تو کورونا سے تو نہیں شائد ہم بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔” لاک ڈاؤن سے متاثرہ اس برادری کی مشکلات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندگان نے بھی چپی سادھ لی ہے۔ اس حوالے سے ڈی ڈبلیو نے جب مقامی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو متعلقہ حکام نے اپنا موقف دینے سے انکار کیا اور یہ واضح کیا کہ مخنث برادری کے لیے اُن کے پاس کچھ نہیں۔

‘ہمیں چین سے جینے تک نہیں دیا جاتا’

وادی سوات میں رہنے والے مخنث افراد کو جہاں دیگر معاشرتی نا انصافیوں اور عدم مساوات کا سامنا ہے، وہاں اِن کے ساتھ مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والی مخنث کرن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بچپن سے ہی انہیں حقارت کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔ عدم مساوات کی شروعات گھر سے ہی ہوئی۔ پھر معاشرے میں بھی انہیں جانور ہی سمجھا گیا۔

کرن نے کہا، “ہمیں اور کوئی کام نہیں آتا، بس یہی ہمارا فن ہے کہ ہم شادیوں اور دیگر خوشی کی تقریبات میں رقص کریں اور اس کی بدولت اپنے لیے دو وقت کی روٹی کمائیں۔ آئے روز ہمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ہمارے گھروں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور اب مصیبت کی اس گھڑی میں بھی ہمیں الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے۔”

مخنث کمیونٹی کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ

رواں برس وادی سوات کے ہیجڑوں پر تشدد کے پچاس سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ پولیس کی جانب سے ملنے والے اعداد وشمار کے مطابق 2019ء میں صرف 20 سے زائد واقعات میں ہیجڑوں کو مجموعی یا انفرادی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اِن واقعات کے مقدمے بھی درج ہوئے لیکن متاثرہ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ پولیس کی آشیرباد سے ملزمان رہا ہو جاتے ہیں، یا ملزمان اور ہیجڑوں میں راضی نامہ کروایا جاتا ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والی مخنث چاہت نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ معاشرہ انہیں تسلیم ہی نہیں کرتا۔ انہیں شادیوں اور دیگر تقاریب میں بلایا جاتا ہے، لیکن وہاں پر بھی انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اکثر اوقات تو لوگ ان کے گھروں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے، ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ چاہت کے بقول، “جب ہم پولیس اسٹیشن فریاد لے کر جاتے ہیں، تو وہاں اُلٹا ہمیں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ہمیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ جب کسی واقعے کے ملزمان گرفتار ہوتے ہیں، تو انہیں اگلے ہی دن رہائی مل جاتی ہے۔”

اس حوالے سے ڈی ایس پی سٹی دیدار غنی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں ہیجڑوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور انہیں ہر قسم کی قانونی امداد ملتی رہتی ہے۔ دیدار غنی نے اس بات کی تردید کی کہ پولیس ہیجڑوں کے معاملے میں جانبداری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایسا ہر گز نہیں، جتنے بھی کیس ان کے ساتھ رپورٹ ہوئے، اُن میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور انہیں سزائیں بھی دی گئیں۔”

ہیجڑوں کا تحفظ ممکن نہ ہوسکا

پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کو حقوق دینے اور اُن کے تحفظ کے لیے 2018ء میں پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کیا گیا تھا، جس کو ٹرانس جینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ کا نام دیا گیا تھا۔ مذکورہ قانون کے بعد اس کمیونٹی کو کافی حد تک حقوق ملے لیکن تاحال اُن کا تحفظ ممکن نہ ہوسکا، اور نہ معاشرے نے ٹرانس جینڈرز کو تسلیم کیا ہے۔

اس حوالے سے سماجی کارکن شہزاد خان نے بتایا کہ جب تک معاشرے کی سوچ کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور ہیجڑوں کو معاشرے کے دیگر افراد کی طرح تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک یہ برادری اسی طرح کسمپرسی کی زندگی گزارے گی۔”

شہزاد خان مزید کہتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے تحت ان افراد کو روزگار، ووٹ اور انتخابات میں اپنا نمائندہ کھڑا کرنے کا حق دیا گیا ہے لیکن ابھی تک اُس قانون کو عملی شکل نہیں دی گئی ہے، ” مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔ ہم جانوروں کے ساتھ تو پیار کرتے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن ہیجڑوں سے ہمیں نفرت محسوس ہوتی ہے۔ کئی بار قوانین پاس کیے گئے لیکن ابھی تک ٹرانس جینڈرز کے حوالے سے معاشرے کی سوچ کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔”

یہ برادری جو پہلے سے ہی مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے، اب بالخصوص نئے کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے اُن کے لیے حالات مزید کٹھن ثابت ہو رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ کم از کم اگر حکومت یا دیگر فلاحی ادارے اس مصیبت کے وقت میں اِن کے ساتھ تعاون کریں تو ہو سکتا ہے ان کا احساس محرومی بھی کم ہو جائے اور ان کی دہلیز پر پہرہ جمائے بھوک بھی مٹ جائے

تبصرہ کریں

Your email address will not be published.