آئی ایس آئی کی مدد سے لاک ڈاؤن کیلئے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم لانے کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی مدد سے لاک ڈاؤن کیلئے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم لانے کا اعلان کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا پاکستان سمیت دنیا بھر کیلئے امتحان ہے، بھارت، بنگلا دیش اور افریقا جیسے ممالک مشکل سے دوچار ہیں لہٰذا ہمیں قوم بن کر اس امتحان سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں بیروزگاری بڑھی، ہمیں لاک ڈاؤن کے ساتھ کاروبار بند نہیں کرنے چاہیے تھے، کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا کب تک رہے گا لیکن تعمیرات کھل رہی ہیں، اب ہم جدید سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر ٹریس اینڈ ٹریک سسٹم پورے پاکستان میں شروع کریں گے، جس علاقے میں کورونا ہو، صرف اسے لاک ڈاؤن کیا جائے گا، باقی میں کاروبار چلتا رہے گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمزور طبقہ بہت مشکل میں ہے، جو دیہاڑی دار طبقہ ہے اس کا ریکارڈ نہیں ہے وہ گھر بیٹھا ہوا ہے، کورونا کے ساتھ غریبوں کو دیکھ کر ملک چلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی ملک یا عالمی ادارے نے ایک ڈالر بھی مدد نہیں کی، زرمبادلہ اور ٹیکس گرگیا، کاروبار بند ہوگئے پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں صرف غیرملکی قرضوں پر شرح سود کی ادائیگی میں ایک سال کی چھوٹ ملی ہے۔

میڈیا کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے میڈیا کا عروج اور زوال دیکھا، اینکرز کی ریٹنگ بڑھتی اور کم ہوتی بھی دیکھی ہے، عزت اور ذلت سب اللہ کی طرف سے ہے،اگرکوئی یہ سمجھے کہ وہ دوسرے کو ذلت دے گا تو وہ غلطی پر ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر انسانوں کے ہاتھ میں عزت اور ذلت ہوتی توسارے پیسے والے ہی عزت دار کہلاتے، اللہ حق کے ساتھ ہے، سچ کو زیادہ دیر دبایا اور چھپایا نہیں جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے 30 اکتوبر کے جلسے میں لوگوں کو بہت ریٹنگ ملی، تحریک انصاف پہلی جماعت ہے جس نے سوشل میڈیا کو اپنایا، میں نے عارف علوی کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا ٹیم بنوائی اور انہیں متحرک کیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنہوں نے کرپشن سے پیسہ بنایا وہ آزاد میڈیا سے خوفزدہ ہیں، 2008 کے بعد کرپٹ لوگ حکومت میں آئے اور کرپشن چھپانے کیلئے میڈیا کو استعمال کیا گیا جبکہ ماضی میں پلانٹڈ پروگرام کیلئے اینکرز پر پیسہ استعمال ہوا، کرنٹ افیئر کے پروگرام لوگوں کیلئے بے معنی ہوچکے ہیں، لوگ بھی تنگ ہیں، کیوں کہ ان پروگراموں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہالی وڈ اور بالی وڈ فحاشی پھیلا رہے ہیں اور یہ فحاشی خاندانی نظام کو تباہ کر رہی ہے۔