عمران مخالفین کو الجھا تو نہیں رہے۔۔۔؟

واشنگٹن(ویب ڈیسک) نیب قانون میں رعایت کا مطلب عمران کا 24 سالہ جدوجہد پر پانی پھیرنا ہے۔ کہیں نیب قانون میں تبدیلی اپوزیشن کو لالی پاپ تو نہیں

نجی اخبار میں اپنے تجزئیے میں شاہین صہبائی کا کہنا تھا کہ ویں ترمیم پر بحث بلاجواز نہیں، مقصد مخالفین کو الجھانا اور چند ماہ میں ترمیم بھی کرلی جائے گی۔ایک ایسے وقت میں جب کورونا کی وبا نے نظام حیات الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے ایسے میں 18ویں ترمیم کا معاملہ چھیڑنا بظاہر بے مقصد اور فضول محسوس ہوتا ہے مگر ایسا ہے بالکل بھی نہیں۔ یہ سب کچھ پی ٹی آئی کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ مقصد کچھ عرصہ تک مخالفین کو اس ایشو میں الجھائے رکھنا ہے۔

ٹائیگرفورس کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہین صہبائی نے مزید کہا کہ ٹائیگر فورس کا قیام عمل میں آ چکا ہے ۔ ٹائیگر فورس کی صورت میں عمران خان کو مفت میں ایسی فوج دستیاب ہو گی جس کو وہ غریبوں کے لیے ریلیف کاموں میں اتار سکیں گے ۔ اس وقت جب اپوزیشن کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوں گے عمران خان عوام، تاجروں، بینک کاروں، بلڈرز اور بازار سب کو خوش کر چکے ہوں گے ۔

شاہین صہبائی کا کہنا تھا کہ ایک ناتجربہ کار عمران خان اپنے تمام چھوٹے بڑے بلنڈرز کے باوجود بھی اپنے آپ کو اور حکومت کو سنبھالنے میں کامیاب ہوں گے ، عمران اپنی ان غلطیوں سے بہت کچھ سیکھ بھی چکے ہیں، انہوں نے اپوزیشن یہاں تک کہ اپنے اتحادیوں کو سیاسی طریقے سے سنبھالنے کا ہنر بھی سیکھ لیا ، ماضی کی تمام تر مشکلات کے باوجود وہ نو ڈیل، نو این آر او، نو کمپرومائز کے عہد پر قائم رہے ہیں ، یہی طاقت ان کو مستقبل میں بھی سہارا دیئے رکھے گی۔

شاہین صہبائی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی حکومت کی خواہش ہے کہ آئندہ آنے والے 6سے 8ماہ کے دوران اسے اپوزیشن کی طرف سے کسی سنجیدہ مزاحمت کا سامنا نہ رہے اور رمضان،عید الفطر، محرم اور وفاقی اور صوبائی بجٹ کا عرصہ پر سکون طریقے سے گزر جائے ۔ آسان کیوں؟پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے پاکستان کو غیر ملکی مالیاتی اداروں کے قرضے کی ادائیگیوں میں ایک سال اور کچھ میں اس سے زیادہ کا ریلیف مل چکا ہے ۔ کورونا سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی صورت میں ڈالروں کا بہائو بھی پاکستان کی طرف ہے ۔ افراط زر کم ہو رہا ہے ۔ اس لیے حکومت کے لیے معیشت ایک طویل عرصہ تک کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہو گی۔

احساس پروگرام کی اہمیت بتاتے ہوئے شاہین صہبائی نے کہا کہ عوامی مفاد میں حکومت کے جارحانہ اقدامات جن میں 12ہزار روپے کی ضرورتمندوں کو فراہمی کے علاوہ صنعتکاروں اور تاجروں کو بھی فراخ دلانہ ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے ۔ عوام کو صحت کی سہولت اور احساس ریلیف پروگرام کے ذریعے اقدامات کے علاوہ زکوٰۃ فنڈز کے عوام کی بہبود میں استعمال سے عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ دوسری طرف اپوزیشن اس عرصے میں بدعنوانی کے مقدمات میں الجھی رہے گی۔ اس عرصے میں اپوزیشن کے رہنما جیل اور نیب میں پیشیوں میں الجھے رہیں گے اور نیب قانون میں تبدیلی کا لالی پاپ ان کو حکومت کے خلاف مزاحمت سے باز رکھے گا۔

آخر میں شاہین صہبائی نے کہا کہ عمران خان کو ایک سہولت یہ بھی حاصل ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک سپر سٹار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کے عالمی رہنمائوں سے بہترین مراسم ہیں جن کو وہ سٹریٹجک پلاننگ اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے سکیورٹی پیراڈائم میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں اور اندرونی طور پر اپنے اہداف کا نصف بھی حاصل کر لیتے ہیں ان کو چھونا بھی ممکن نہ ہو گا۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر متکبر ہو جائیں اور غیر ضروری جنگوں میں خود کو الجھا لیں۔ ان پر بہت سے فورمز پر اس حوالے سے تنقید کی جاتی ہے ۔ حکمت اسی میں ہے کہ جنگل سے گزرتے ہوئے جب درختوں کی شاخیں زمین کے قریب ہوں تو سر جھکا کر گزرا جائے اور جب درخت زمین پر پڑا ہو تو پھلانگ کر۔