عالمی وباء کی دوسری لہر زیادہ خطرناک۔۔۔؟

کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے باوجود دنیابھر کے مختلف ممالک میں عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئیں پابندیاں آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ تھوڑا سکون محسوس کررہے ہیں، لوگ اس بدترین صورتحال سے نکلنے کیلئے ڈانس کرکے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں

چیک جمہوریہ کے دارالحکومت پراگ میں ریسٹورنٹ کھلے تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور کھانے پینے پہنچ گئے، سربیا اور اردن میں کنڈرگارٹن اسکول کھول دیئے گئے، فرانس کے دارالحکومت پیرس کے شانزے لیزے پر ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل کا کہناہے کہ ابتدائی سیرولوجیکل اسٹڈیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتا کم فیصد آبادی کووڈ 19 کیخلاف لڑنےوالے اینٹی باڈیز رکھتی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر آبادی اب بھی وائرس کا شکار ہے۔

جنوبی کوریامیں لاک ڈاون میں نرمی کے بعد کرونا کی دوسری لہر میں کیسز میں مزید اضافہ ہوا۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں 2 ہزار سے زائد نئے کرونا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد شہر کے سارے نائٹ کلب بند کردیے گئے۔

دوسری جانب جرمنی کے مذبح خانے میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے، لیکن اگر سماجی دوری کا خیال رکھا جائے، احتیاطی تدابیر اپنائی جائے تو یہ کرونا کی یہ دوسری لہر زیادہ خطرناک نہیں ہوگی

کرونا وائرس کی وبا کے باوجود معمولات زندگی کو آگے بڑھانا ہی ہو گا۔ کئی صنعتيں نئے قوائد و ضوابط کے ساتھ دوبارہ فعال ہو چکی ہيں، جرمنی نے سرحدی بندشوں ميں مئی کے وسط سے نرميوں کا اعلان کيا ہے۔ فرانس، سوئٹزرلينڈ اور آسٹريا کی سرحدوں پر گزر گاہيں ہفتہ 17 مئی سے کھول دی جائيں گی جبکہ مئی اور جون کے درميان لکسمبرگ، ڈنمارک اور ديگر علاقائی ملکوں کے ليے بھی جرمنی کے دروازے کھلے ہوں گے۔

جرمنی ميں مئی سے اکثريتی دکانيں کھل چکی ہيں۔ حجاموں کا کاروبار بھی تيزی سے چل رہا ہے۔ ريستورانوں کو آرڈر لينے کی اجازت ہے اور جلد ہی وہ کھل بھی جائيں گے۔ چند يورپی ملکوں ميں ريستورانوں کو احتياطی تدابير کا خيال رکھتے ہوئے ڈيزائن کيا گيا ہے اور اب وہ اپنے احاطے ميں بھی مہمان نوازی کر رہے ہيں۔ اسپين ميں بالآخر لوگوں کو کھلے آسمان تلے ورزش کی اجازت مل گئی ہے۔ بچوں کے کھيلنے کی جگہيں بھی کھل چکی ہيں

سوئٹزرلينڈ ميں گيارہ مئی سے بچوں کے اسکول کھل گئے ہيں۔ جرمنی، فرانس اور چند ديگر يورپی رياستوں ميں بھی گيارہ مئی سے شروع ہونے والے ہفتے سے اسکول کھل گئے ہيں۔ کلاس روم ميں موجود ميزوں اور کرسيوں کے درمیان فاصلہ بڑھا ديا گيا ہے تاکہ طلباء ايک دوسرے سے بہت قريب نہ بيٹھيں۔ وقفے کے دوران بچوں کو ديگر طلباء سے ڈيڑھ ميٹر کا فاصلہ رکھنا لازمی ہے۔ بچوں کو ہر گھنٹے ہاتھ دھونے کے ليے بھيجا جاتا ہے۔

چین کے شہر ووہان اور جیلن میں بھی کرونا کی دوسری لہر آگئی جس کے بعد جیلن شہر میں مقامی سطح پر کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد شہر کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں جب کہ تمام ٹرانسپورٹ کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ جبکہ وونان میں دوبارہ ٹیسٹ کرائے جائیں گے

عالمی وبا کی اس دوسری لہر کو نظر انداز کرنا خطرے سے کم نہ ہوگا کیونکہ انیس سو اٹھارہ کے اسپینشن فلو کی دوسری لہر زیادہ جان لیوا ثابت ہوئی تھی