روضہ رسول ﷺ کی سنہری جالیوں سے آگے کیا ہے؟ اندرونی منظر

ہر عاشق رسول کے یہ دل کی خواہش ہے کہ وہ مدینہ دیکھے اور پھر گنبد خضریٰ دیکھے اور سنہری جالیوں سے آگے جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور کی زیارت بھی کرے مگر ایسا شرف کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے یا مسلم ممالک کے حکمرانوں کو دروازہ کھول کر اندر جانے دیا جاتا ہے۔

جب روضہ رسول سے کسی کو اندر جانے کی اجازت دی جائے تو سامنے سبز رنگ کی چادر مبارک نظر آتی ہے جس پر مختلف آیات مبارکہ لکھی گئی ہیں تو باہر سے دیکھنے والے لوگ اسی کو قبر انور تصور کرتے ہیں مگر نجی ٹی وی چینل پر لاہور کے ایک ریسرچر نے بتایا کہ نی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور کس جگہ پر موجود ہے۔

سید مزین ہاشمی نے بتایا کہ گنبد خضریٰ کے نیچے دو حجرے موجود ہیں ایک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دوسرا حجرا مبارک حجرت فاطمہ الزاھرا رضی اللہ عنہا کا ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حجرا مبارک کے اندر محراب بھی موجود ہے۔

دونوں حجرات کے مختلف دیواریں ہیں جو کہ مختلف ادوار میں مسلم رہنماؤں کی جانب سے تعمیر کی گئی ،ان کا کہنا ہے کہ ان دیواروں سے آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان دیواروں سے آگے قباۃ النور(گنبد نور)موجود ہے جو کہ گنبد خضریٰ کے بالکل نیچے موجود ہے۔ جس میں گنبد خضریٰ کے جیسی ایک کھڑی موجود ہے ان کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور تک جانے کا بس یہی ایک راستہ ہے ۔

قباۃ النور کی کھڑی کو کھولا جائے تو اس کے بعد سامنے وہی چھت نظر آتی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے سے کھجور کے پتوں اور اونٹ کی کھال سے بنائی گئی ہے اور اس چھت مبارک کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی قبر انور موجود ہے جہاں تک کسی کو جانے کی نہ تو اجازت اور قبر انور کو آخری کنگ عبداللہ کے دور میں خدمت کیلئے کھولا گیا تھا۔

گنبد خضریٰ کا ماڈل متحف دارالمدینہ نامی میوزیم میں رکھا گیا ہے انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جس طرح عام طور پر تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتی ہیں کہ قبر انور پر عمامہ شریف رکھا گیا ہے وہ تمام تصاویر حقیقت سے دور ہیں۔
نوجوان ریسرچر مزین ہاشمی نے بتایا کہ مدینہ منورہ میں رہ کر خادمین سے پوچھ کر اور مدینہ منورہ میں موجود عجائب گھر میں جا کر ماڈل دیکھ کر ان اندرونی مناظر کی تصدیق کی گئی ہے۔

بشکریہ اردوسیاست ڈاٹ پی کے