حکومت شوگر مافیا پر شکنجہ کس پائے گی؟ اصل امتحان کا آغاز ہو گیا

لاہور(ویب ڈیسک) ملک میں چینی کے بحران اور اسکی قیمتوں میں اضافہ پر بنے کمیشن کی رپورٹ کا اعلان کر دیا گیا، رپورٹ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی لوٹ مار سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح شوگر ملز مافیا کسان کو لوٹنے، حکومتی اداروں کو ساتھ ملا کر اپنی تجوریاں بھرنے اور قومی خزانہ کو چونا لگانے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ دنیا نیوز کے شینئر تجزیہ نگار سلمان غنی نے اس حوالے سے اپنے تجزیہ میں قرار دیا ہے کہ شوگر مافیا میں سے بعض کا تعلق سیاست سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چینی پر بنائے جانے والے کمیشن کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کمیشن نے انتہائی محنت اور گہرائی سے چینی مافیا کو بے نقاب کیا، لہٰذا گیند خود حکومتی کورٹ میں آ چکا ہے اور ان پر ہاتھ ڈالنا اب خود ریاستی اداروں اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔

حکومت اس پر کس حد تک پیش رفت کر سکے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ رپورٹ کے پیش نظر سوالات اٹھتے ہیں کہ ملک میں چینی مافیا اتنا مضبوط اور موثر کیسے بنا۔ چینی مافیا پر ہاتھ ڈالنے سے حکومتیں گریزاں کیوں رہیں، حکومتی ادارے کن مقاصد کے تحت ایسے مافیا کا بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ساتھ دیتے ہیں اور کیا کمیشن کی سفارشات پر انکی سپرٹ کے مطابق عمل درآمد ہو پائے گا ؟ چینی کی قیمتیں کم ہو پائیں گی ؟ کیا حکومتی ادارے معاملات سے بے خبر تھے ؟۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ چینی کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ کر کے اربوں کا منافع بنایا جاتا ہے کمیشن نے ان دو کھاتوں کی بھی نشاندہی کر دی جن میں ایک حکومت کو دکھانے کیلئے اور دوسرا اپنے معاملات چھپانے کیلئے بروئے کار لایا جاتا ہے، اہم ترین سوال یہ ہے کہ حکومت کو اس میگا سکینڈل کی تحقیقات کی نوبت کیوں پیش آئی ؟ اس کی وجہ ہے کہ حکومتی کارکردگی ہر شعبے میں دگرگوں ہے، آئے روز کوئی بڑا سکینڈل کھڑا ہو جاتا ہے اور انجام کار عوام اپنی جیبوں پر ڈاکہ پڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں، اس صورتحال سے انتہائی مایوسی کا پیغام ملا، اس پر میڈیا نے زبردست رپورٹنگ کی، جس کے نتیجے میں وزیراعظم پر دباؤ پڑا ورنہ وہ تو شوگر کی ایکسپورٹ کی منظوری دیکر مطمئن تھے جبکہ بزدار انتظامیہ بھی اربوں روپے کی سبسڈی دے کر سرخرو ہو چکی تھی۔

شوگر مافیا اتنا طاقتور کیسے ہو گیا کہ حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اربوں کی دیہاڑی لگا گیا ؟ اس کا جواب ہمیں تمام سیاسی جماعتوں اور خصوصاً حکومت میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو دیکھ کر ہو جاتا ہے۔ المیہ ہے کہ سرمایہ دار طبقات ہر سیاسی جماعت اور رہنما پر اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور صلہ بڑے معاشی فیصلوں سے انعام کے طور پر پاتے ہیں۔ حکومت رپورٹ میں یہ جواب دینے میں ناکام رہی کہ حکومت میں کس کس نے اس مافیا کی پشت پناہی کی۔ وزیر خزانہ شامل تھے، پھر وزیراعظم اور کابینہ کی ناک کے نیچے منظوری دی گئی۔ جب مقامی مارکیٹ میں چینی کو ذخیرہ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ مینجمنٹ انتظامیہ کہاں سوئی رہی؟۔ اس طرح اوپر سے نیچے تک بد انتظامی اور نا اہلی کا راج تھا۔

چینی بحران کے فرانزک آڈٹ میں بیلنسنگ فیکٹر کے طور پر 2015 تک کے شوگر معاملات کو بھی کھنگالا گیا،تا کہ کوئلوں کی دلالی میں صرف حکومت کا منہ کالا نہ ہو بلکہ کچھ کیچڑ اپوزیشن کی صفوں کی جانب بھی اچھالا جائے، موجودہ نیب اور ایف آئی اے سے کسی معنی خیز اور موثر تحقیقات کی امید رکھنا محض خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔