امریکہ میں شدید احتجاج، واشنگٹن میں نیشنل گارڈز تعینات

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ نے  پولیس حراست کے دوران سیاہ فام کی ہلاکت کے خلاف امریکا میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کیلئے  فوج تعینات کرنے کی دھمکی دے دی۔

ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولس میں گزشتہ دنوں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مختلف ریاستوں میں گزشتہ ہفتے سے ہنگامے اور فسادات جاری ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث چاروں اہلکاروں کو  سزا دی جائے تاہم اب تک صرف ایک اہلکار کو گرفتار کیا گیا جس نے  جارج کی گردن پر اپنا گھٹنہ رکھا تھا جس وہ دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔

کچھ مظاہرین نے گزشتہ روز ٹرمپ کے خطاب کے دوران  وائٹ ہاؤس کے باہر پر امن احتجاج کیا لیکن پولیس نے ان پر آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے بعد مظاہرین مشتعل ہوگئے۔

اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے تمام ریاستوں میں فوج تعینات کرنے کی دھمکی دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن میں بےامنی انتہائی ذلت آمیز ہے، پرامن احتجاج امریکی شہریوں کا حق ہے مگر خطرناک گروہوں کے پرتشدد حملے برداشت نہیں کیےجائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جارج فلوئیڈ کو انصاف فراہم کیاجائےگا لیکن مظاہرین کے لیے متاثرہ ریاستوں کےگورنر سڑکوں پرعمل داری قائم رکھیں کیونکہ اگر ریاستیں ناکام رہیں تو لاقانونیت اورتشدد کےخاتمےکےلیے فوج کومتحرک کیاجائےگا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ کچھ گروہ ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہروں میں لوٹ مار کر رہے ہیں، اس کے تدارک کےلیے اقدامات کر رہے ہیں، امن وامان کی بحالی کےلیے تمام وسائل بروئےکارلائیں گے۔ 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لوٹ مار، جلاؤ گھیراؤ کو روکنےکے لیے ہزاروں فوجی تعینات کررہاہوں، چاہتاہوں کہ اس دہشت کے ذمے داروں کوبھاری جرمانےاور طویل جیل کی سزائیں دلائیں۔

ڈونلڈ  ٹرمپ کےخطاب کے بعد وائٹ ہاؤس میں نیشنل گارڈ تعینات کردیے گئے۔

ادھر نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے ٹوئٹر پوسٹ میں ٹرمپ پر غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  کہا کہ ‘آج صدر ٹرمپ نے امریکی شہریوں کے خلاف امریکی فوج کو طلب کیا ہے، انہوں نے پر امن مظاہرے کو ختم کرنے کے لیے فوج کو طلب کیا تاکہ وہ چرچ کے باہر تصاویر بنوا سکیں، یہ صدر کے لیے محض ایک ریئلیٹی ٹی وی شو ہے۔’