بیوروکریسی کی چالیں، ملکی انتظامی ڈھانچہ سخت دبائو کا شکار

لاہور(معظم فخر)وطن عزیز کا انتظامی ڈھانچہ اس وقت شدید اندرونی دبائو کا شکار ہے۔ ایک جانب تبدیلی کے علمبردار ہیں تو دوسری جانب سٹیس کو کے پروردہ عناصر سرگرم عمل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں انتظامی انتشار کی کیفیت نظر آ رہی ہے۔

اس وقت ملک کے انتظامی ڈھانچے یعنی بیوروکریسی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے ایک جانب وہ گروپ ہے جس نے گزشتہ تین دہائیوں سے پنجاب میں حکمران جماعت کے ہاتھ مضبوط کئے اور سیاسی جماعت کے آلہ کار کے طور کام کیا اور دوسری جانب وہ بیوروکریٹ ہیں جو ملکی استحکام کی خاطر کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں، لیکن موخرالذکر گروپ اتنا طقتور نہیں کہ اپنا موثر کردار اد ا کر سکے۔

پنجاب ملکی سیاست کا اہم گڑھ ہے اور یہاں انتظامی انتشار وفاق کومتاثر کرتا ہے۔ چونکہ ایوان اقتدار تک جانے کے لئے پنجاب کو سیاسی طور پر فتح کر نا ضروری ہے اس لئے یہاں استحاکم وفاق کے استحکام کا مظہر ہے اور یہاں انتشار وفاق کو دبائو میں لانے کے لئے کافی ہے۔

حال ہی میں پنجاب میں انتطامی تبدیلیوں کی اطلاعات منظر عام پر آئیں جس کے زریعے سٹیس کو توڑنے کی کوشش کی گئی اور نواز لیگ کے انتہائی قریب اور ساپق پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم فواد حسن فواد کے گروپ کے بیورو کریٹس کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ پنجاب کو انتظامی طور بہتر انداز میں چلایا جا سکے، اس ضمن میں پنجاب میں بزدار سرکار کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک کام کرنے والے سابق چیف سیکرٹری اور حالیہ سیکرٹری کامرس یوسف نسیم کھوکھر کا نام لیا گیا لیکن شہر اقتدار میں موجود سٹیس کو کے علمبرداروں نے اس کاوش کو سبوتاژ کیا اور اس مہم کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔

واقفان حال بتاتے ہیں کہ اس مہم کے سرخیل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹراعجاز منیر تھے جو سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے شاگرد خاص کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور حال ہی میں انہوں نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جگہ ہتھیانے کے لئے بھی لابنگ کی لیکن تاحال ان کا دائو ابھی تک کارگر ثابت نہیں ہو سکا اور اعظم خان ابھی بھی وزیراعظم کا اعتماد حاصل رکھتے ہیں۔

اسٹیبلیشمنٹ میں ہی اعجاز منیر کے گروپ نے یوسف نسیم کھوکھر کی تعیناتی رکوانے میں اہم کردار کیا اور حکومت پر اس انداز میں دبائو ڈلوایا کہ یوسف نسیم کھوکھر نے یہ اہم اتعیناتی حاصل کرنے کے لئے میڈیا مہم شروع کی اور موجودہ چیف سیکرٹری کے وزیراعلی کے ساتھ مبینہ اختلافات کی خبروں کو پھیلایا جس پر پنجاب حکومت نے ترجمان کو میڈیا پر آ کر ان اختلافات کی خبروں کی تردید کرنا پڑی اور اس میڈیا مہم کو جواز بنا کر یوسف نسیم کھوکھر کی اس تعیناتی کو موخر کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر اعجازمنیر اپنے استاد محترم فواد حسن فواد سے کئی گھنٹے طویل ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہیں اور ان ملاقاتوں میں فواد حسن فواد کے ہونے والے سمدھی بھی موجود تھے کئی گھنٹے طویل یہ ملاقاتیں نیب کے دفاتر اور نیب حوالات میں ہوئیں۔

اب چونکہ تمام ٹرانسفرز پوسٹنگز سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہی ہونا ہوتی ہیں اور وہ ان ٹرانسفرز پوسٹنگز پر وزیراعظم کو معاونت اور مشاورت بھی فراہم کرتے ہیں اس ضمن میں واقفان حال کا کہنا کہ ہے کہ وہ صرف ان افسران کی اہم پوسٹنگز کی سفارش کرتے ہیں جو ان کے استاد محترم کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور دیگر تمام قابل افسران نظر انداز کر دئیے جاتے ہیں۔ وزیراعظم کو چونکہ بیوروکریسی سے انتظامی معاملات چلانے ہوتے ہیں اس لئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ایک اہم ذریعہ ہے اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم کے قریب بھی ہوتے ہیں اسی لئے واقفان حال کا کہنا ہے کہ اب انہوں نے پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کی جگہ لینے کے لئے بھی لابنگ شروع کر دی ہے ۔

اب اگر اس معاملے کو اس طرح دیکھا جائے کہ متذکرہ افسر خود کو اعظم خان کی جگہ تعینات کرانے کے خواہشمند ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو وزیراعظم سیکرٹریٹ بھی سٹیس کو کے پروردہ افراد کی دسترس میں آ جائے گا اور ملک میں تبدیلی کی لہر کو سبوتاژ کیا جا سکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک میں بدترین انتظامی انتشار پیدا ہو جائیگا۔

شہر اقتدار یوں تو ہمیشہ سے ہی محلاتی سازشوں کا مرکز رہا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس اہم ترین موڑ پر جہاں وطن عزیز کئی طرح کے خطرات اور بحرانوں کا شکار ہے ہم ایسی کسی بھی سازش کے متحمل ہو سکتے ہیں جو وطن عزیز کو کسی بھی طرح کے انتظامی بحران کا شکار کر دے۔ یہ ہی اہم ترین سوال ہے اور وقت ہی اس سوال کا جواب دے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ معظم فخر