بائولر نے کہا کاش دھماکا ہو جائے اور بیس سیکنڈ کے بعد بس پر حملہ ہو گیا، سنگا کارا

کولمبو(ویب ڈیسک) سری لنکن کرکٹ ٹیم کےسابق کپتان کمار سنگاکارا نے لاہور میں ٹیم کی بس پر حملے سے قبل ایک حیران کن انکشاف کردیا,3مارچ 2009کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے کمار سنگاکارا نے کہا کہ ہم بس میں اسٹیڈیم جارہے تھے، کھلاڑی ایک دوسرے سے باتیں کررہے تھے۔بس کے اندر ایک فاسٹ باؤلر یہ کہہ رہا تھا کہ وکٹ بہت زیادہ فلیٹ ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اسٹریس فریکچر نہ ہوجائے ، کاش کوئی بم دھماکا ہوجائے اور ہم لوگ گھر کو واپس لوٹ جائیں۔

کمار سنگاکارانے کہا کہ اس کھلاڑی کی بات ابھی مکمل ہوئے 20 سیکنڈز ہی گزرے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ، ہم سمجھے کہ کوئی آتش بازی کررہا ہے ، ایک کھلاڑی چلایا کہ ‘نیچے لیٹ جائو ، حملہ آور بس کو نشانہ بنارہے ہیں’،

تلکارتنے دلشان سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے ، میں وسط میں بیٹھا ہوا تھا ، مہیلا جے وردھنے اور مرلی دھرن میرے عقب میں تھے ، مرلی دھرن، تھیلان سماراویرا کے درد کی آواز سن سکتے تھے ، مجھے یاد ہے اوپنر تھرنگا بھی سامنے ہی موجود تھے ، ہم بس کی نشستوں کے بیچ میں چھپے ہوئے تھے۔

انٹرویو میں سنگاکارا نے بتایا کہ حملہ آوروں نے بس پر کئی گولیاں برسائیں، گرنیڈز بھی پھینکے اور راکٹ لانچر بھی استعمال کیا ، میں نہیں جانتا ہم کس طرح سے بچ گئے ، تھیلان زخمی ہوچکے تھے ، مجھے بھی کندھے پر لوہے وغیرہ کے کئی ٹکڑے لگے ، اجینتھا مینڈس بھی زخمی تھے، تھرنگا کے سینے سے خون بہہ رہا تھا اور اس دوران وہ گر گئے کہ شاید انہیں گولی لگی ہے ، ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف سے چلانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

بدقسمتی سے ہماری سیکورٹی پر مامور تمام افراد مارے جاچکے تھے ، یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل تھا

سنگاکارا نے ڈرائیور کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ ہمارے ڈرائیور کو کئی بار نشانہ بنانے کی کوشش کی ، وہ کئی مرتبہ بال بال بچے ، وہی ہمارے اصل ہیرو تھے ، ہم صرف اسی لیے زندہ بچ گئے کیوں کہ وہ زندہ تھے اور وہ وہاں سے ہمیں زندہ نکال لائے۔