کل سے لاہور کےحساس علاقے 2 ہفتے کے لیے بند

لاہور( ڈیسک رپورٹ) لاہور میںکرونا کیسز میں تشویش ناک اضافے کے باعث حکومت نے لاک ڈائون کے حوالے سے سختی کا فیصلہ کر لیا۔اس حوالے سےوزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے لاہور میںپریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد حکومت کی طرف سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کروانے کی پوری کوشش کی گئی اور اس کی خلاف ورزی پر دکانیں اور مارکیٹس بھی سیل کی لیکن لوگوں نے عمل نہیں کیا۔ گزشتہ 2 روز میں ہم نے دیکھا کہ لاہور کے جن علاقوں میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہی ہے ان کے حوالے سے مختلف احتیاطی تدابیر اپنائی جائے گی۔جوہر ٹاؤن میں 358 اور واپڈا ٹاؤن میں 259 کیسز سامنے آئے جب مریضوں کی اتنی بڑی تعداد ہو تو علاقوں کو بند کرنا پڑے گا، ان علاقوں کو بند کیا جارہا ہے جہاں کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔
لاہور میں شاہدرہ، اندرون لاہور کے کچھ علاقے، مزنگ، شاد باغ، ہربنس پورہ، گلبرگ، لاہور کینٹ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاؤن کا بیشتر حصہ اور علامہ اقبال ٹاؤن میں شامل کچھ سوسائٹیز کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔ وائرس کے زیادہ پھیلاؤ کے باعث کل 12 بجے کے بعد ان علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ان علاقوں میں، کھانے پینے کی اشیا، فارمیسیز اور کچھ کاروبار جیسا کہ حفاظتی طبی آلات بنانے والی فیکٹریاں کھلی رہیں گی، جن کی فہرست آویزاں کردی جائے گی جس کا اطلاق کل رات 12 بجے سے ہوگا۔
کمشنر لاہور اور سی سی پی او لاہور کی مدد سے اس حکم پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔یاسمین راشد نے کہا کہ لاہور کے ان علاقوں میں کم از کم 2ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے اور دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے اگر کچھ بہتری آئی تو ان علاقوں کو وقت سے پہلے کھولا جاسکتا ہے۔دیگر علاقے جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا انہیں بھی خبردار ہوجانا چاہیے کہ اگر ایسا کرنے سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو یہ نہ ہو دیگر علاقوں کو بھی بند کردیا جائے۔
صوبائی وزیر نے وضاحت کی کہ صوبے میں وینٹی لیٹرز کی قلت نہیں ہے اس حوالے سے سے غلط تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published.