حکم امتناع خارج۔۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام اداروں کو چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چینی انکوائری کمیشن کیس، حکم امتناع خارج۔۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام اداروں کو چینی رپورٹ پر کارروائی کی اجازت ۔۔۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کی چینی رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس پر حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے حکومت کو چینی رپورٹ پر شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی اجازت دے دی۔ اپنے مختصر فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ شوگر ملز مالکان کی درخواست مسترد کی اور درخواست پر جاری حکم امتناع بھی ختم کردیا

عدالت نے شوگر انکوائری رپورٹ پر متعقلہ اداروں کو کارروائی کی بھی اجازت دے دی ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نیب کو کیس بھیجا گیا وہ درست ہے، وفاقی وزراء فیصلے پر بیان بازی نہیں کرینگے۔

اپنے مختصر فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواستگزار سمیت کوئی بھی فریق ہو اس کا فیئر ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

قبل ازیں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہےکہ انکوائری کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کے لیے بنایا گیا، انکوائری تو حکومت کے اپنے مضبوط اتحادیوں اور دوستوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا یہ کہنا غلط ہو گا کہ انکوائری کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کے لئے بنایا گیا، انکوائری تو حکومت کے اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کارروائی تعصب پر مبنی نہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری کمیشن کے کسی ممبر پر کاروباری مفادات یا سیاسی وابستگی کا الزام نہیں، کہا گیا کہ آگے چل کر اس رپورٹ کا غلط استعمال ہوگا، مستقبل کے کسی مفروضے پر آج تحقیقات نہیں روکی جا سکتیں، انکوائری کمیشن نے ایسے ٹی او آرز کے تحت کام کیا کہ شوگر انڈسٹری کے تمام پہلو سامنے آئیں اور معلوم ہو سکے کہ چینی کی کوئی آف دی ریکارڈ خرید و فروخت تو نہیں ؟ چینی کی قیمتیں اوپر جانے سے حکومت نہیں، عوام متاثر ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ شوگر انڈسٹری حکومت کو اس کیس میں فریق مخالف کیوں سمجھتی ہے ؟ حکومت نے معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا ہے، نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی آزادانہ طور پر اس معاملے کو دیکھیں گے۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی انکوائری کمیشن کی سفارشات کے تحت اداروں کو کام جاری رکھنے دیا جائے۔