ویت نام کا محیر العقول کارنامہ، کورونا سے ایک بھی ہلاکت کے بغیر وباء کو شکست دے ڈالی

 ہوچی منہہ(ویب ڈیسک) دس کروڑ کی آبادی والے ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا۔ جب کہ اس کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور وسائل محدود ہیں۔ اب دو ماہ سے اس ملک میں کرونا کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا۔ویت نام میں آج بھی اگر آپ کسی کیفے میں داخل ہوں تو دروازے پر کھڑا سیکیورٹی گارڈ آپ کے ہاتھوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے سپرے کرے گا، اس طرح پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننے کی درخواست کی جائے گی۔یہ عمل بلا تخصیص ایک ایسے ملک میں جاری ہے جہاں کرونا وائرس سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا ، جہاں دو مہینے سے کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
یہ بات سبھی کے لیے حیرت انگیز ہے کہ دس کروڑ گنجان آبادی والے اس ملک میں کرونا کے ہاتھوں ایک شخص بھی نہیں ہلاک ہوا، ان تحیر کن اعداد و شمار سے یہ بحث ضرور شرع ہوئی کہ ایک پارٹی کی حکومت والے ملک میں سارا ڈیٹا سامنے نہیں آیا۔ چین اور ایران میں یک جماعتی آمریت قائم ہے اور ان ملکوں کے بارے میں شک کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اموات کی تعداد کو چھپایا، مگر نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے آزاد معاشروں میں، جس طرح کرونا پر قابو پایا گیا، اس پر تو کسی کو شبہ نہیں۔
ویت نام کہیں ان دونوں کے درمیان کھڑا ہے۔ ویت نام کے سرکاری اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی، مگر ماہرین اس پر متفق ہیں کہ انہوں نے اول دن سے سخت احتیاطی اقدامات کیے اور اس وبا کو روکنے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔
24 مارچ کو ہوچی منہ سٹی میں لیڈروں اور ماہرین کا اجلاس ہوتا ہے اور فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ملک کرونا وائرس کے صرف ایک ہزار کیسوں کا متحمل ہو سکتا ہے اور اگر کیسیز اس سے زیادہ بڑھے تو اٹلی اور سپین جیسے حالات پیدا ہو جائیں گے۔
حکومت نے کامیاب کوشش کی اور اگلے دو ہفتوں میں کیسیز کی تعداد کو ایک ہزار سے کم رکھنے کے لیے بھرپور جتن کیا۔ ویت نام کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال وہاں 349 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
ویت نام اور امریکہ میں جنوری کے ایک ہفتے میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے مطابق اگر امریکہ میں فوراً لاک ڈاون کر دیا جاتا تو کم از کم 36 ہزار افراد کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے بر وقت اقدام کامیابی کی کلید ثابت ہوئے۔ ویت نام نے روز اول سے اس خطرے کو بھانپ لیا اور جیسے ہی پہلا مریض سامنے آیا، انہوں نے مریض سے معلقہ افراد کی تلاش اور شناخت کی اور ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
ہوچی منہ شہر کی انتظامیہ نے ہر تین سو متاثرہ افراد کے عوض 84 ہزار افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا۔ اور اس طرح انہوں نے وائرس کو پھیلنے سے روک دیا۔ ویت نام کی صحت کی ایجنسیوں کے ساتھ ہارورڈ میڈیکل سکول کی شراکت داری ہے، اس کے سربراہ ٹاڈ پولاک کہتے ہیں کہ اگر دوسرے ملکوں کی طرح متاثرہ مریضوں کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں ہوتی تو پھر اس کا اس طرح روکنا مشکل ہو جاتا۔ مگر یہاں معاملہ مختلف تھا۔
اس کے علاوہ ویت نام کی حکومت نے عوامی مباحثے میں الجھے بغیر کئی جارحانہ اقدام کیے۔ اس نے تمام متعلقہ اداروں سے کہا کہ وہ گھر گھر جا کر یہ معلوم کریں کہ ان کے گھر میں کوئی بیرون ملک سے تو نہیں آیا۔ اس کے علاوہ جس پر متاثر ہونے کا شک ہوا اسے علیحدہ کر کے قرنطینہ میں بھیج دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کرونا وائرس کے بارے میں جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کو پھیلنے سے روکا۔
سائنس کے ایک میگزین کے مطابق سوشل میڈیا نے کچھ جھوٹی خبریں پھیلائیں مگر اس کے ساتھ انہوں نے وائرس سے متعلق انتہائی مفید معلومات عام کیں اور عوام میں اس مرض کے بارے میں آگہی پیدا کی۔
جریدے کے مطابق ویت نام کی کامیابی کا راز عوام کو متحرک کرنے، مرض کے بارے میں آگہی پیدا کرنے، خوف و ہراس پیدا کیے بغیر اس کی روک تھام میں مضمر ہے اور اس مہم میں حکومت، عوام اور نجی سیکٹر برابر شریک رہے