جج ارشد ملک کی برطرفی، نواز شریف کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے؟

معروف اینکر کامران خان نے جج ارشد ملک کی برطرفی پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغا م میں لکھا کہ آخر فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا ہوگا لیکن جج ارشد ملک کی برطرفی سے نواز شریف صاحب کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب ارشد ملک کے انہیں بری اور سزا دینے کے دونوں فیصلے کالعدم ہو جائیں گے گویا اب دونوں کیسز ایکبار پھر احتساب عدالت جائیں گے اور نئے فیصلے آئیں گے

کامران خان نے مزید لکھا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جج ارشد ملک کی سبکدوشی فلیگ شپ العزیز یہ کیسز کے ممکنہ ری ٹرائیل وغیرہ کے محترم نواز شریف کے سیاسی مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں سیاست سے تاحیات نااہل ہوچکے ہیں

بعض تجزیہ کار کامران خان کی اس رائے سے متفق نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جج صاحب کی جانبداری بھی ظاہر ہوگئی ہے، اب اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، یہ کیسز نئے سرے سے شروع ہوں گے

لیکن بہت سے تجزیہ کار اور اینکرز کامران خان کی اس رائے سے متفق نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک کی برطرفی سے انکے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ فوادچوہدری نے پوائنٹ اٹھایا کہ ان جج صاحب کو ن لیگ نے ہی تعینات کیا تھا، نوازشریف پر کیسز بالکل درست تھے، جج ارشد ملک کی برطرفی سے اس کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔