کورونا ویکسئین کی تیاری میں پیشرفت، آکسفورڈ یونیورسٹی میں کامیاب ٹرائل

لندن(ویب ڈیسک) آکسفورڈ یونیورسٹی اور برطانیہ کی ایک ادویات بنانے والی کمپنی کی مشترکہ طور پر تیار کی گئی ویکسین کے ابتدائی ٹرائلز کے نتائج مثبت ، محفوظ اور امید افزا رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق برطانیہ کے میڈیکل جرنل دی لانسٹ میں شائع ہونے  والی ایک ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک گروہ اوربرطانوی فارماسوٹیکلز کمپنی آسٹرازینیکا کی مشترکہ طور پر تیار کی گئی ویکسین کا 1077 رضاکاروں پر ٹیسٹ کیا گیا ، جس کے اب تک کے نتائج مثبت اور امید افزا رہے ہیں، یہ ویکسین جسم میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرنے اور ساتھ ساتھ وائٹ بلڈ سیلز کی تعداد کو بڑھانے کا کام کرے گی جس سے انسانی جسم بہت تیزی سے کورونا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہوسکے گا۔

اس ویکسین کےعلاوہ اب تک 23 ممکنہ ویکسینز کے انسانوں پر ٹرائلز جاری ہیں تاہم اب تک ان میں سے ایک بھی کورونا وائرس کے خلاف انسانوں کو محفوظ رکھنے کیلئے مکمل طور پر تیار ثابت نہیں ہوسکی ہے، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی نہیں جانتا اس وائرس سے لڑنے کیلئے انسانی قوت مدافعت کوکس لیول تک بڑھانا ہوگا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امید کی جارہی ہے کہ اتنے سارے تجربات کے درمیان سے بہت جلد ضرور ایسی ویکسین سامنے آجائے گی جو اس عالمی وبا سے انسانوں کو محفوظ رکھ سکے گی، اس مقصد کیلئے حکومتیں بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں اور ادویات ساز کمپنیاں ممکنہ ویکسین کی پروڈکشن کی تیاریاں کررہی ہیں۔

اس مقصد کیلئے امریکی حکومت نے آکسفورڈ یونیورسٹی پر 1اعشاریہ 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے یہ معاہدہ کیا ہے کہ جو بھی ویکسین تیار ہو اس کی سب سے پہلے 300 ملین ڈوزز اکتوبر تک امریکہ کو فراہم کی جائیں، جبکہ یورپی ممالک نے 400 ملین ڈوزز کا مطالبہ کررکھا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا وائرس ویکسین کے مثبت نتائج کے حوالے سے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نہایت پرجوش نظر آرہے ہیں، انہوں نے بیان دیا کہ یہ بہت مثبت خبر ہے، ہمارے شاندار، دنیا کے لیڈنگ سائنس دانوں اور ریسرچرز کی کامیابی ہے، ابھی اس ویکسین کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ہمیں اس کیلئے مزید ٹرائلز سے گزرنا ہوگا مگر یہ صحیح سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published.